حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 268
حیات احمد ۲۶۸ دعوی مجدد کا عام اعلان جلد دوم حصہ سوم اگر چہ حضرت نے براہین احمدیہ کی تالیف واشاعت کے لئے جو اعلان شائع کیا تھا اس میں یہ صاف لکھا تھا کہ ” خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے لیکن با ایں عام طور پر اس دعوئی کے متعلق زور نہیں دیا گیا تھا نہ اس لئے کہ آپ کو نعوذ باللہ اس میں کچھ شک تھا بلکہ اس لئے کہ آپ کی توجہ اس وقت براہین احمدیہ کی تالیف و اشاعت کی طرف تھی لیکن جب رفتہ رفتہ آپ کے دعوی کا چرچا ہونے لگا تو بعض لوگوں نے کھلم کھلا آپ سے دعوئی مجددیت کے متعلق سوالات شروع کر دیئے۔اس قسم کے سائلین میں سے ایک حاجی ولی اللہ صاحب ریاست کپورتھلہ کے ایک معزز عہدہ دار تھے یہ وہی بزرگ ہیں جن کے نام پھگواڑہ کے قریب حاجی پور نام ایک گاؤں آباد ہے اور آپ ہمارے مخلص اور باصفا بھائی منشی حبیب الرحمان صاحب رضی اللہ عنہ کے عزیزوں میں سے تھے۔انہوں نے حضرت کی خدمت میں آپ کے دعوئی مجددیت کے متعلق خطوط لکھے جن میں آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ شریعت میں مجدد ہیں یا طریقت میں اور تجدید سے کیا مراد ہے اور قرآن مجید سے مجدد کا کیا ثبوت ہے۔اس مجد دکو پہلوں پر کوئی فضلیت ہے یا نہیں اور کیا آپ مجد دالف ثانی کے پیرو ہیں وغیرہ۔اسی قسم کے سوالات تھے آپ نے اُن کے سوالات کے جواب میں حاجی صاحب کو ایک مکتوب لکھا (جس کو ذیل میں درج کرتا ہوں ) اس مکتوب سے قارئین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ (۱) آپ کی تجدید کی نوعیت کیا ہے (۲) مجددیت کے دعوی کا کھلا کھلا اعلان (۳) اپنی فضلیت کا مسئلہ۔علاوہ بریں یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح نمایاں ہے کہ شروع ہی سے آپ کا اپنی ماموریت کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ ”آپ علی منہاج نبوت مامور ہیں۔“