حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 251
حیات احمد ۲۵۱ جلد دوم حصہ دوم اور دوسرے مذہبی مذاق رکھنے والے لوگوں سے شخصی مباحثات بھی کرتا رہتا تھا۔اور ہانہ کی حالت ان ایام میں عجیب تھی عیسائیوں کا وہ بڑا اور پرانا گڑھ تھا۔اخبار نو را فشاں بڑی شان سے شائع کیا جارہا تھا ان سے مباحثات کے لئے شیخ الہ دیا صاحب جلد ساز پیش پیش تھے شیعہ لوگوں سے بھی چھیڑ چھاڑ رہتی تھی اور حافظ عبدالباقی نام ایک نابینا بڑی دلچسپی لیتے تھے۔اور شیعہ حضرات میں میر فرزند حسین صاحب کا طوطی بول رہا تھا۔غیر مقلدوں میں میاں محمد حسن صاحب اعوان کی پارٹی تازہ بتازہ جوش دکھا رہی تھی۔اور مولوی عبداللہ ، عبدالعزیز اور محمد ہرسہ برادران کے غیظ وغضب اور خود نمائی کا تو ٹھکانہ ہی نہ تھا وہ اپنے آپ کو لودہانہ کے مسلمانوں کے گو یا مذہبی پیشوا یقین کرتے تھے اور اگر کوئی مولوی یا اہلِ علم ان کی مرضی یا اطاعت کے بغیر لودہانہ میں باہر سے آ کر کوئی وعظ وغیرہ کرے تو اس کا ٹھکانا مشکل تھا غرض ایک عجیب قسم کی حالت تھی۔وحدت وجود یوں میں میاں سیف الرحمن نے ایک پارٹی بنالی تھی اور وہ چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔حضرت اقدس کا چر چا جب لودہانہ میں عام ہونے لگا اور آپ کے زہد و ورع اور علم وفضل کے متعلق شہرہ ہوا تو انہوں نے میر عباس علی صاحب کے واسطہ سے بعض سوالات شروع کئے چنانچہ میر صاحب نے حضرت کی خدمت میں وحدت وجود کے مسئلہ کے متعلق استفسار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود یکہ آپ براہین کی طبع و اشاعت اور دوسرے دینی کاموں میں از بس مصروف تھے کیونکہ اس وقت کوئی انتظام تو تھا نہیں۔سب کام خود کرنے ہوتے تھے، کاپیوں کا پڑھنا پروف دیکھنے وغیرہ اور خطوط کے جواب دینے وغیرہ) میر عباس علی صاحب کے استفسار پر وحدت وجود کی تردید میں ایک مبسوط خط ۱۳ / فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۴ / ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ کو لکھا جس میں وجود یوں کے اعتقادات کے پر نچے اڑا دیئے۔وحدت وجود کے مسئلہ پر جب آپ نے قلم اٹھایا تو یونہی خیالی طور پر نہیں بلکہ آپ نے ایک محقق کی حیثیت سے اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کر لیا تھا اور کافی مطالعہ کر کے یہ فیصلہ کیا تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی۔اور کتاب اللہ اور احادیث