حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 230 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 230

حیات احمد ۲۳۰ جلد دوم حصہ دوم آپ اور آپ کے خدام کو اسی قسم کے واقعات اور حالات پیش آنے والے ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور آپ کے متبعین کو پیش آتے ہیں۔اس دعوی میں کبھی کمی نہیں آئی بلکہ زمانہ کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے آپ کے مقام اور مدارج کی حقیقت کھلتی گئی۔اس دعوئی میں بھی قوت اور شوکت پیدا ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ آپ نے صاف صاف کہہ دیا کہ ” خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے“ غرض حاجی ولی اللہ صاحب کے سوالات نے ایک حقیقت کا اظہار کرا دیا۔اگر چہ خود حاجی صاحب کو اس نعمت اور فضل کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی بلکہ ان کو براہین کے التوائے اشاعت سے بعض شکوک اور شبہات پیدا ہوئے اور انہوں نے بعض ناملائم الفاظ بھی اپنے مکتوب میں لکھے حضرت اقدس نے ان کو ان کے ان خطوط کا بھی ایسا جواب دیا کہ جو ایک سلیم الفطرۃ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کسی دوسرے موقع پر اس کا ذکر آتا ہے۔یہاں مجھے یہی بیان کرنا ہے کہ حاجی صاحب تو محروم رہے مگر ان کے بعض عزیز اور رشتہ دار جیسے حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ایسے داخل ہوئے کہ حضور کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے اور ان کے دوسرے رفقاء سے اپنے ساتھ جنت میں ہونے کا وعدہ دیا بہر حال وہ مکتوب یہ ہے مخدومی مکرمی اخویم سلمہ اللہ۔بعد سلام مسنون۔آنمخدوم کا دوبارہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو اگرچہ باعث علالت طبع طاقت تحریر جواب نہیں۔لیکن آنمخدوم کی تاکید دوبارہ کی وجہ سے کچھ بطور اجمال عرض کیا جاتا ہے۔(۱) یہ عاجز شریعت اور طریقت دونوں میں مجد د ہے۔(۲) تجدید کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کم یا زیادہ کیا جاوے۔اس کا نام تو نسخ ہے بلکہ تجدید کے یہ معنی ہیں کہ جو عقائد حقہ میں فتور آ گیا ہے اور طرح طرح کے زوائد ان کے ساتھ لگ