حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 211 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 211

حیات احمد ۲۱۱ جلد دوم حصہ دوم ہو جائیں گے اور میں نے اپنے خاص ہم نشینوں کو اس پیشگوئی کی خبر دے دی جو اب تک زندہ ہیں پھر شام کے قریب میرے بھائی کا انتقال ہو گیا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۰ ) انتقال کے وقت مرزا غلام قادر صاحب کی عمر ۵۵ سال کی تھی اور وہ اپنے خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے ان کی وفات کے ساتھ خاندانی تاریخ کا ایک اور باب شروع ہوا۔تمام امور دنیوی ان کی ذات سے وابستہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کوئی دلچسپی نہ تھی نہ آپ نے کبھی اپنی زمینوں کو دیکھا اور نہ یہ معلوم کہ کون کاشت کرتا ہے اور کیا آمد ہوتی ہے کہاں خرچ ہوتی ہے۔آپ عملاً دنیا سے منقطع تھے۔اور ابنائے ہم کو اس خاندان سے بے حد پر خاش تھی اور انہوں نے جدی جائیداد کے متعلق مختلف قسم کی پیچیدگیاں پیدا کر دی تھیں اور مقدمات کے ایک لمبے سلسلہ نے مالی مشکلات الگ پیدا کر دی تھیں۔دوسری طرف تائی صاحبہ ( بیگم مرزا غلام قادر مرحوم) کے کوئی اولاد نہ تھی ان کے ہاں ایک لڑکی عصمت نامی اور لڑکا عبدالقادر نام پیدا ہوئے مگر صغرسنی میں فوت ہو گئے تھے ان کو بچپن سے مرزا سلطان احمد صاحب سے محبت تھی اور جب سے ان کا بچہ عبدالقادر نام چھوٹی ہی عمر میں فوت ہو گیا تھا اور بھی مرزا صاحب سے محبت بڑھ گئی تھی۔انہوں نے مشہور کر دیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب میرا متینی ہے اور کاغذات مال میں بھی اس کا اندراج ہو گیا۔حضرت صاحب کو معلوم بھی نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔علاوہ بریں آپ جانتے تھے کہ تائی صاحبہ کی ہمدردی اور خبر گیری کے لئے کوئی فارغ اور دنیا دار آدمی ہی چاہئے اور مرزا سلطان احمد صاحب یوں بھی اُس وقت اس جڑی جائیداد کے نصف کے مالک ہو سکتے تھے۔اس لئے حضرت صاحب نے اس میں کوئی مداخلت نہ کی۔مرزا سلطان احمد صاحب نے انتظام خانہ داری اور زمینداری کو نہایت مشکلات کے طوفان میں سنبھال لیا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بعض اوقات کوئی مشورہ بھی لیتے تھے مگر آپ اُن کو ایسی راہ بتاتے تھے جس سے کسی قسم کا تنازعہ اور جھگڑا پیدا نہ ہو۔اور خواہ بظاہر اپنا نقصان بھی ہو جاوے مگر معاملہ بڑھے نہیں۔چنانچہ جب مرزا اعظم بیگ صاحب