حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 13 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 13

حیات احمد ۱۳ جلد دوم حصہ اول حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آں جناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا۔مگر بقدر تر بوز تھا۔آنحضرت نے جب اُس میوہ کو قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اُس میں سے شہر نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مُردہ کہ جو دروازے سے باہر پڑا تھا آنحضرت کے معجزے سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا۔جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اُس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اُس نئے ان بقیہ حاشیہ:۔لوگ اس کتاب کی مدد میں اپنی آمد کا ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرماویں تو یہ کتاب بسہولت چھپ جائے گی ورنہ یہ مہر درخشاں چُھپ رہے گا۔اور یا یوں کریں کہ ہر ایک صاحب توفیق به نیت خریداری کتاب سے پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواست کے راقم کے پاس بھیج دیں اور جیسے جیسے کتاب چھپتی جائے گی آپ کی خدمت مبارک میں ارسال ہوتی رہے گی۔غرض انصار اللہ بن کر اس کام کو جلد تر انجام دے دیں جو زندگی کا ایک دم بھی اعتبار نہیں والسلام۔فقط الراقم میرزا غلام احمد رئیس قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب“ اس اعلان میں فقرہ نمبر ا جو میں نے جلی کر دیا ہے میں آپ نے اشارہ کیا ہے کہ سفیر ہند میں قرآن مجید کی حقانیت کے ثبوت کے لئے کسی آریہ نے اشتہار دیا ہے اس سے مراد باوانرائن سنگھ صاحب وکیل امرتسر ہیں جو رسالہ وڈ یا پر کا شک کے ایڈیٹر تھے اور جن کے ساتھ قلمی مباحثات کے سلسلہ کا ذکر میں پہلی جلد میں کر آیا ہوں۔تکمیل تاریخ کے لئے باوا صاحب کو جو جواب اس وقت آپ نے دیا میں اُسے یہاں درج کرتا ہوں کہ وہ اسی سلسلہ تالیف براہین سے تعلق رکھتا ہے۔