حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 183 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 183

حیات احمد ۱۸۳ جلد دوم حصہ دوم آزمائش کے لئے قادیان آنے پر آمادگی ظاہر کی اور اس طرح پر اب وہ براہِ راست حضرت کے مقابلہ میں آگیا۔پنڈت لیکھرام نے ۱۸۸۵ء کی پہلی سہ ماہی کے آخر میں مطبع مرتضائی کے اس مطبوعہ خط کو پیش نظر رکھ کر چاہا کہ میں مقتدائے قوم بن کر دعوت یک سالہ کے قبول کرنے والوں میں شمار کیا جاؤں۔چنانچہ اس نے ۱۸۸۵ء کی پہلی سہ ماہی کے آخر میں حضرت اقدس سے خط و کتابت شروع کی۔اور اس میں دو سو روپیہ ماہوار کا مطالبہ کیا۔حضرت اقدس نے اس کو جواب دیا کہ تم کسی قوم کے مقتدا اور پیشوا نہیں اور نہ تمہاری آمدنی دوسو روپیہ ماہوار ہے ایسی حالت میں تم اس کے مستحق نہیں لیکھرام کے خطوط میں یاوہ گوئی اور استہزا بھی تھا جیسا کہ حضرت اقدس نے ۱۶ر اپریل ۱۸۸۵ء کے مکتوب میں لیکھرام کے 9 اپریل کے خط کے متعلق لکھا۔آپ نے بجائے اس کے کہ میرے جواب پر انصاف اور صدق دلی سے غور کرتے ایسے الفاظ دور از تہذیب و ادب اپنے خط میں لکھے ہیں کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی مہذب آدمی کسی سے خط و کتابت کر کے ایسے الفاظ لکھنا روا ر کھے۔پھر اسی خط میں آپ نے تمسخر اور ہنسی کی راہ سے دین اسلام کی نسبت تو ہین اور نفرتی باتوں کو پیش کیا ہے اگر چہ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ آپ کس قدر طالب حق ہیں لیکن پھر بھی میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی سخت اور بد بودار باتوں پر صبر کر کے دوبارہ آپ کو اپنے منشاء سے مطلع کروں۔یہ سلسلہ خط و کتابت کسی قدر لمبا ہوا۔حضرت اقدس نے بالآ خرلیکھر ام کو کہا کہ وہ آریہ سماج قادیان۔امرتسر۔لاہور۔اور ہانہ۔پشاور کے ممبروں کی حلفی تصدیق سے ایک اقرار نامہ پیش کرے جس میں وہ اس کو اپنا مقتد التسلیم کرتے ہوں۔اس اقرار نامہ پر بعض ثقہ مسلمانوں اور بعض پادریوں کی شہادت ہو اور اسے اخبارات میں شائع کرا دیا جاوے مگر پنڈت لیکھرام نے کبھی ان پانچوں آریہ سماجوں کی طرف سے دستخطی اقرار نامہ اور مختار نامہ لے کر نہ بھیجا۔اس لئے اسی سلسلہ