حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 167 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 167

حیات احمد ۱۶۷ جلد دوم حصہ دوم تھا وہ دیوار نکل کر صاف ہو چکا ہے۔محراب کے ساتھ مسجد کا کمرہ تھا اور زینہ کے متصل ایک غسلخانہ تھا ابتدا حضرت نے اسی مقصد کے لئے تیار کرایا تھا کہ وہاں پانی وغیرہ بھی رہے اور گرمیوں کے ایام میں آپ وہاں آرام بھی فرمایا کرتے تھے۔قیلولہ یا صبح کی نماز کے بعد کبھی کبھی وہاں استراحت فرمایا کرتے تھے اس پرانی عمارت میں سے اس وقت صرف یہی حجرہ باقی ہے لیکن وہ مسجد کی عام سطح سے نیچے سطح رکھتا تھا۔پھر اس کمرہ کی سطح کو اونچا کر کے مسجد کی چھت کے برابر کر لیا گیا اور مولوی محمد علی صاحب وہاں کام کیا کرتے تھے یہی وہ کمرہ ہے جہاں سرخ سیاہی کے چھینٹوں والا نشان ظاہر ہوا تھا۔مسجد کے متعلق الہامات اور اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ۲۰) وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا الآية (ال عمران : ۸۶) اور درود شریف لکھا ہوا تھا۔اس مسجد مبارک کی تعمیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام علی العموم نمازیں اسی میں باجماعت پڑھا کرتے تھے۔اوائل میں آپ ہی اذان دے دیتے تھے اور آپ ہی امامت کرا دیا کرتے تھے مگر عموماً آپ کسی دوسرے کو امام مقرر کر دیا کرتے تھے۔خصوصیت سے مسیح موعود کے دعوی کے بعد آپ نے بجز ایک مرتبہ ( بمقام گورداسپور کے کبھی نماز نہیں پڑھائی۔البتہ گھر میں جب علالت کی وجہ سے آپ مسجد میں تشریف نہیں لا سکتے تھے تو خود جماعت کرایا کرتے تھے تا کہ التزام جماعت قائم رہے۔بقیہ حاشیہ۔کاغذ پر شائع فرمایا کیونکہ اس میں آنے والے فضل کی بشارت تھی اور مسجد کی پیشانی پر سبز رنگ میں آپ کو لَا رَ آدَّ لِفَضلہ دکھایا گیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ سبز رنگ کو ہماری جماعت میں کبھی کوئی خصوصیت نہیں پیدا ہوئی گو ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود نے نشان کے طور پر چاہا تھا کہ سبز رنگ کی پگڑی ہومگر یہ امر معرض التوا میں آیا یہاں تک کہ خلافت ثانیہ یعنی حضرت فضل عمر کا زمانہ آیا جس کا نام مسجد پر لکھا ہوا دکھایا گیا تھا۔اس لئے اپنے سفر یورپ میں اپنے خدام سفر اور مبلغین کے لئے سبز رنگ کی پگڑی کو مخصوص کر دیا۔یہ باتیں کسی تکلف سے نہیں ہوئیں اور نہ اس خیال سے کی گئیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان میں ایک حقیقت پیدا کر دی جو پہلے سے رکھی تھی اور وہ اپنے وقت پر ظاہر ہوگئی۔فَالْحَمْدُ ا لِلَّهِ عَلَى ذَالِك (عرفانی)