حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 166
حیات احمد ۱۶۶ جلد دوم حصہ دوم کہ بعض اشخاص ہیں جن کو اس عاجز نے شناخت نہیں کیا وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد کے دروازے کی پیشانی پر کچھ آیات لکھتے ہیں ایسا سمجھا گیا کہ فرشتے ہیں اور سبز رنگ ان کے پاس ہے جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں اور خط ریحانی میں جو پیچان اور مسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں تب اس عاجز نے ان آیات کو پڑھنا شروع کیا جن میں سے ایک آیت یا د رہی کار آدَّ لِفَضْلِہ اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے جس عمارت کو وہ بناتا ہے اس کو کون مسمار کرے اور جس کو وہ عزت دینا چاہتا ہے اس کو کون ذلیل کرے۔“ 66 ( مکتوب مورخه ۹ را کتوبر ۱۸۸۳ء مطابق کے ذی الحجہ ۱۳۰۰ھ۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۵۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) غرض خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت یہ مسجد مبارک تعمیر ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی میں اس کے دو نام آئے ہیں۔مسجد مبارک اور بیت الذکر کے متعلق پانچ مرتبہ آپ کو الہام ہوا۔اس مسجد کے متعلق جو بشارات اللہ تعالیٰ نے دی تھیں وہ ہر زمانہ میں پوری ہوتی رہتی ہیں۔حضرت نے خود اپنی تصانیف میں اپنے نشانات کے ذیل میں اس پر بحث کی ہے اسی مسجد مبارک کے پہلو میں ایک حجرہ آپ نے زینہ کے ساتھ ہی تعمیر کرایا تھا۔اس طرح پر مسجد مبارک کی عمارت کی تقسیم ی تھی۔سب سے آگے محراب کا حجرہ تھا جس میں امام کھڑا ہوتا تھا۔اس حجرہ میں تین کھڑکیاں تھیں ایک جانب مغرب اور ایک جانب شمال جو اب تک موجود ہیں۔مشرق کی طرف جو داخلہ کا دروازہ حاشیہ۔سبز رنگ کی سیاہی سے خط ریحانی میں آپ نے فرشتوں کو مسجد کی پیشانی پر کچھ آیات لکھتے دیکھا۔ان میں لَا رَادَّ لِفَضلِہ آپ نے پڑھا حضرت اقدس نے ۱۴ دسمبر ۱۸۸۸ء کو ایک سبز اشتہار شائع کیا تھا جس میں بشیر اول کی وفات اور بشیر ثانی ( مصلح موعود ) کی پیشگوئی پر مفصل بحث تھی۔یہ سارا اشتہارسبز کاغذ پر شائع کیا گیا تھا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ نے اس رؤیا کی مناسبت سے اُس کو سبز