حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 147 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 147

حیات احمد ۱۴۷ مکتوب بنام میر عباس علی صاحب مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جلد دوم حصہ دوم بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔موجب ممنونی ہوا۔آج میرا ارادہ تھا کہ صرف ایک دن کے لئے آنمخدوم کی ملاقات کے لئے لودہانہ کا قصد کروں لیکن خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ حال طبع کتاب کا ابتر ہورہا ہے۔اگر اس کا جلدی سے تدارک نہ کیا جائے تو کاپیاں جو ایک عرصہ کی لکھی ہوئیں ہیں خراب ہو جائیں گی۔بات یہ ہے کہ کاپیوں کی چھ سات جزیں مطبع ریاض ہند سے باعث کم استطاعتی مطبع چشمہ نور میں دی گئی تھیں اور مہتمم چشمہ نور نے وعدہ کیا تھا کہ ان کا پیوں کو جلد چھاپ دیں گے اور قبل اس کے جو پورانی اور خراب ہوں چھپ جائیں گی۔سوخط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ وہ کا پیاں اب تک نہیں چھپیں اور خراب ہو گئیں ہیں۔کیونکہ ان کے لکھے جانے پر عرصہ دراز گزر گیا ہے۔ناچار اس بندوبست کے لئے کچھ دن امرتسر ٹھہرنا پڑے گا اور دوسری طرف یہ ضرورت درپیش ہے کہ ۲۶/ دسمبر ۱۸۸۳ء تک بعض احباب بطور مہمان قادیان میں آئیں گے اور ان کے لئے اس خاکسار کا یہاں ہونا ضروری ہے سو یہ عاجز بنا چاری امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہے اور معلوم نہیں کیا پیش آوے۔اگر زندگی اور فرصت اور توفیق ایزدی یا ور ہوئی۔اور کچھ وقت میسر آ گیا تو انشاء اللہ القدیر ایک دن کے لئے امرتسر میں فراغت پا کر آنمخدوم کی طرف روانہ ہوں گا مگر وعدہ نہیں۔اور کچھ خبر نہیں کہ کیا ہو گا اور خداوند کے فضل وکرم ربوبیت سے اس عاجز کو فرصت مل گئی تو اس بات کو آنمخدوم پہلے سے یادرکھیں کہ صرف ایک رات رہنے کی گنجائش ہوگی کیونکہ بشرط زندگی و خیریت کہ جو خدا وند کریم کے ہاتھ میں ہے ۲۶؍ دسمبر ۱۸۸۳ء تک قادیان میں