حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 133
حیات احمد ۱۳۳ جلد دوم حصہ دوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ عرض حال اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوانح حیات کی دوسری جلد کا دوسرا نمبر شائع کر رہا ہوں۔اس دوسری جلد میں حضور کے۱۸۷۹ ء سے لے کر ۱۸۸۹ء تک کے حالات ہوں گے اس جلد کا پہلا نمبر اگست ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا تھا اور قریبا تین سال بعد دوسرا نمبر شائع ہو رہا ہے اس تو قف اور دیر کے جو اسباب ہیں میں ان کو بیان کر کے جماعت کی ذمہ واریوں اور احساس کو صدمہ پہنچا نانہیں چاہتا۔اب تک کہ حضور کی وفات پر چوتھائی صدی گزر چکی ہے ہم آپ کے سوانح حیات بھی پورے شائع نہ کر سکے۔میں اپنی ذمہ واری کو سمجھتا ہوں مگر چاہتا ہوں کہ جماعت بھی اپنی ذمہ واری کو محسوس کرے۔حضرت خلیفۃ امسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۷ء کے جلسہ میں فرمایا تھا کہ یہ کتاب ہر احمدی کے گھر میں خواندہ ہو یا نا خواندہ ہونی چاہئے“ اب ہر احمدی سوچ لے اور اپنا محاسبہ خود کر لے کہ اس نے کہاں تک عمل کیا ہے اس نمبر کی اشاعت شائد اور بھی معرض التواء میں رہتی مگر خدا تعالیٰ نے خان بہادر چوہدری محمد دین صاحب ممبر کونسل آف سٹیٹ پنشنرز ڈپٹی کمشنر حال وزیر مال ریاست جے پور کو تو فیق دی کہ وہ اس کام کو جاری رکھنے کے لئے میری اعانت کریں میں ان کے اخلاص اور صدق کا اندازہ نہیں کر سکتا۔انہوں نے کامل انشراح صدر سے اعانت کا ہاتھ بڑھایا میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان کی ہر قسم کی کامیابیوں کے لئے دعا کریں اور میں تو یقین رکھتا ہوں کہ اس نیک کام کے لئے اللہ کے حضور ان کے لئے بڑا اجر ہے اگر دوسرے بھی تعاون کریں اور ہر نمبر کو فوراً خرید لیں اور