حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 112 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 112

حیات احمد ۱۱۲ جلد دوم حصہ اول حَبِيْبِكَ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَ اَفْضَلِ الرُّسُلِ وَ خَيْرِ الْمُرْسَلِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَ بَارِكْ وَسَلَّمْ اس زمانہ کے پادری اور پنڈت اور برہمو اور آریا اور دوسرے مخالف چونک نہ اٹھیں کہ وہ برکتیں کہاں ہیں وہ آسمانی نور کدھر ہیں۔ہم نے اسی حاشیہ میں لکھ دیا ہے کہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے فضائلِ خاصہ دیکھ کر فی الفور مسلمان ہونے پر مستعد ہے۔اس ثبوت دینے کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔۔۔۔الخ (براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۶ ۲۴۷ حاشیہ نمبر ۱۔روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۷۲ ۲۷۳ حاشیہ نمبر ۱۱) یہ اعلان ۱۸۸۲ ء میں ہو چکا تھا۔اس لئے کہ براہین کی تیسری جلد ۱۸۸۲ء میں شائع ہو چکی تھی مگر اس آزمائش اور مقابلہ کے لئے کسی میں سکت پیدا نہیں ہوئی۔ان ایام میں آپ خدا تعالیٰ کی تائیدات خاصہ اور اظہارِ غیب مصفی کے برکات کو برابر مشاہدہ کر رہے تھے کسی قسم کا دعوئی اپنی ذات کی نسبت نہیں تھا۔ہاں ! قرآن مجید کی حقانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور صداقت کے دلائل عقلی کے علاوہ آپ تائیدی نشانات اور آسمانی شہادات کے ساتھ ثابت کرنے کے لئے بالکل تیار تھے اس لئے کہ ان انعامات خاصہ اور برکات سماویہ کے آپ مورد و مظہر تھے۔اسی دعویٰ کو آپ نے حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ صفحہ ۲۶۲ پر بھی بڑی قوت اور بصیرت کے ساتھ بیان کیا ہے۔و ہی برکتیں اب بھی جو بندوں کے لئے مشہور ہو سکتی ہیں جس کا جی چاہے صدقِ قدم سے رجوع کرے اور دیکھے اور اپنی عاقبت کو درست کر لے انشاء اللہ تعالیٰ ہر یک طالب صادق اپنے مطلب کو پائے گا اور ہر یک صاحب بصارت اس دین کی عظمت کو دیکھے گا مگر کون ہمارے سامنے آ کر اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ وہ آسمانی نور ہمارے کسی مخالف میں بھی موجود ہے اور جس نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور افضلیت اور قرآن شریف کے منجاب اللہ ہونے سے انکار کیا ہے وہ