حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 111
حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل مقلہ۔یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔یہ واقعہ ہے جس کی پچاس آدمی سے زیادہ لوگوں کو خبر ہے۔تریاق القلوب صفحه ۳۷ - ۳۸۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۰۸، ۲۰۹) اس واقعہ کو آپ نے نزول المسیح اور حقیقۃ الوحی میں بھی بیان فرمایا ہے۔اس موقعہ پر عیادت کے لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے والد ماجد شیخ رحیم بخش صاحب بھی آئے تھے اور انہوں نے بعض لوگوں سے بیان کیا کہ آج کل یہ مرض وبا کی طرح پھیلا ہوا ہے۔بٹالہ میں ایک جنازہ پڑھ کر آیا ہوں جو اسی مرض سے فوت ہوا ہے۔غرض یہ مہلک مرض کا حملہ تھا مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا تھا اور اسلام کے احیاء کے لئے آپ کی بعثت ہونے والی تھی آپ کو اس مرض کا ایک معجزانہ علاج سکھایا اور آپ کو شفا دی۔غیر مذاہب کو نشان نمائی کی دعوت کی ابتدا براہین احمدیہ کی تصنیف ہی کے دوران میں آپ نے ان برکات اور فیوض اور ثمرات کے ثبوت کے لئے اپنے وجود کو پیش کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع سے اِس اُمت کے افراد کو سیر کرتے ہیں۔چنانچہ تیسری جلد براہین کی آپ لکھ رہے تھے اور اس کے حاشیہ نمبر 11 میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور آپ کی قدسی تاثیرات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: وہ بھی (آپ کے صادق اور مخلص متبعین ) ان نعمتوں سے اب تک حصہ پاتے ہیں اور جو شربت موسیٰ اور مسیح کو پلایا گیا وہی شربت نہایت کثرت سے نہایت لطافت سے نہایت لذت سے پیتے ہیں اور پی رہے ہیں۔سبحان اللہ ثم سبحان اللہ۔۔۔کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ اُمت جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ وَ