حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 100 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 100

حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل تب میں نے چند مشہور لوگوں کی طرف خط لکھے تو اس قدر روپیہ آ گیا کہ میں پہلا اور دوسرا حصہ براہین احمدیہ کا اس روپیہ کے ذریعہ سے چھاپ سکا۔مگر ابھی میری حالت معمولی تھی اور صرف ایک پرانے خاندان کی کسی قدر شہرت بعض دلوں کو متوجہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے اذن اور حکم سے متحرک ہو گئی تھی۔“ براہین میں آپ لکھتے ہیں کہ : نزول مسیح صفحہ ۱۶۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۹) ایک دن قریب مغرب کے خداوند کریم نے یہ الہام کیا هُرِ إِلَيْكَ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكَ رُطَبًا جَنِيًّا ، سو میں نے سمجھ لیا کہ یہ تحریک اور ترغیب کی طرف اشارہ ہے اور یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بذریعہ تحریک کے اس حصہ کتاب کے لئے سرمایہ جمع ہو گا اور اس کی خبر بھی بدستور کئی ہندو اور مسلمانوں کو دی گئی اور اتفاقاً اُسی روز یا دوسرے روز حافظ ہدایت علی خان صاحب جو کہ اُن دنوں اس ضلع میں اکسٹرا اسٹنٹ تھے قادیان میں آگئے اُن کو بھی اس الہام سے اطلاع دی گئی اور مجھے بخوبی یاد ہے کہ اُسی ہفتہ میں میں نے آپ کے دوست مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو بھی اس الہام سے اطلاع دی تھی۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس الہام کے بعد میں نے حسب ارشاد حضرت احدیت کسی قدر تحریک کی تو تحریک کے بعد لاہور، پشاور، راولپنڈی، کوٹلہ مالیر اور چند دوسرے مقاموں سے جس قدر اور جہاں سے خدا نے چاہا اس حصہ کے لئے جو چھپتا تھا مدد پہنچ گئی وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ“ 66 ( براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۲۶،۲۲۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ا۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۱،۲۵۰ حاشیه در حاشیه نمبرا) الہام الہی کی بناء پر جو تحریک آپ نے فرمائی اس کے جواب میں اول الناصرین ہونے کی سعادت جس ہستی کے حصہ میں آئی وہ حضرت خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ تھے چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۳۳۷ پر اس کا اعتراف فرمایا ہے کہ:-