حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 99
حیات احمد ۹۹ جلد دوم حصہ اول براہین کی پہلی اور دوسری جلد کی اشاعت ۱۸۸۰ء کے اہم واقعات میں براہین احمدیہ کی پہلی اور دوسری جلد کی اشاعت ہے جب یہ کتاب سفیر ہند پریس امرتسر سے چھپ کر آئی تو ایک سو پچاس جلد کے قریب بڑے بڑے امیروں اور دولتمندوں اور رئیسوں کو بامید خریداری روانہ کیں اور ہر پیکٹ کے ساتھ ایک رجسٹرڈ خط بھی کتاب کی ضرورت اور اس کی اعانت کی تحریک پر لکھا اس کی تفصیل آپ نے حصہ دوم کے شروع میں " عرض ضروری بحالت مجبوری“ کے عنوان سے لکھ دی ہے۔جن لوگوں نے براہین کے اعلان اور تحریک اعانت واشاعت پر خریداری کی درخواستیں بھیج دی تھیں ان کو کتاب روانہ کی گئی اور یہ تمام کام آپ خود اپنے ہاتھ سے کرتے بلکہ کتابوں کے پیکٹ تک بھی آپ خود تیار کر لیا کرتے تھے۔آپ کی طبیعت میں احتیاط غالب تھی اور اس کتاب کی صحیح قدرو قیمت سے بھی آپ ہی واقف تھے۔اس لئے علی العموم آپ پیکٹ رجسٹری کرا کر جھ کرتے تھے۔براہین کی تیاری کے بعد طبع کے سوال کے وقت آپ مالی حیثیت سے عسرت کی زندگی بسر کرتے تھے اس لئے کہ جائیداد جدی کے معاملات میں آپ کچھ دلچسپی نہ لیتے تھے وہ انتظام براہِ راست آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کے ہاتھ میں تھا اور جو کچھ وہ کبھی آپ کی ضروریات کے لئے دے دیتے آپ اس پر قناعت کرتے۔آپ کے پاس ایک ہی چیز تھی اور درحقیقت وہی چیز غیر فانی اور ہر میدان میں کام آنے والی ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے تعلق اور اسی سے دعا ہے۔اس ضرورت کے وقت بھی آپ نے دعاؤں سے کام لیا اولاً تو بالفعل نہیں“ کا الہام ہوا۔اور کتاب کی اشاعت معرض تعویق میں آگئی لیکن پھر کچھ عرصہ کے بعد ایک دن مغرب کی نماز کے وقت آپ کو دعا کے لئے جوش پیدا ہوا اور اس دعا کے بعد الہام ہوا جس کا مطلب یہ تھا کہ کھجور کے تا کو ہلا تیرے پر تازہ بتازہ کھجور میں گریں گی“ چنانچہ اس ارشاد الہی کی تعمیل میں آپ نے تمسک پالاسباب کے طور پر تحریک کی۔چنانچہ فرماتے ہیں: