حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 98
حیات احمد ۹۸ جلد دوم حصہ اول نے لکھا ہے کہ : یہ عذر اُن کا سرسری تھا اور ان کو اپنی فتح اور کامیابی پر یقین تھا چنانچہ پہلی عدالت میں تو اُن کی فتح ہو گئی مگر چیف کورٹ میں مدعی کامیاب ہو گئے۔“ اس طرح پر یہ جائیداد نہ صرف ہاتھ سے نکل گئی بلکہ دوسری قیمتی جائیداد بھی اس مقدمہ بازی میں تلف ہوگئی۔حضرت اقدس نے حقوق العباد ، مَوَدَّت فِي الْقُرْبی اور رعایت حقوق تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر پہلے سمجھا دیا اور پھر خدا تعالیٰ سے خبر پا کرسب کو آگاہ کیا اور آخر وہی ہوا جو آپ نے خبر دی تھی لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں آپ کا فعل نہایت پسندیدہ اور پیارا تھا اس کا ثمرہ یہ ہوا کہ وہی جائیداد پھر مرزا اعظم بیگ کے پڑپوتے اور اس کی پوت بہو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کے ہاتھ فروخت کر دی اور وہ اس طرح پر واپس آئی وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذالك اور اس طرح پر یہ ایک عظیم الشان نشان ٹھہر گئی اور اب تو اس زمین کا ہر ذرہ اپنے اندر نشانات آسمانی کی چمک رکھتا ہے جو اپنے موقعہ پر انشاء اللہ بیان کروں گا۔وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ۔ا ۱۸۸۰ ء لغایت ۱۸۸۲ ء تک کے واقعات حضرت اقدس کی بعض تحریروں میں واقعات اور حالات کا تو پتہ لگتا ہے مگر ان کی کوئی صحیح ترتیب یا تاریخ و سال کا تعین بہت مشکل ہے بلکہ وہ واقعات ۱۸۸۰ء سے لے کر ۱۸۸۲ء تک کے درمیان کسی سال میں ہوئے ہیں اس لئے میں اُن کو اسی نوعیت سے دے دیتا ہوں اور کسی خاص سال سے مخصوص کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہاں جہاں مجھے ذاتی تحقیقات سے کسی واقعہ کے کسی سال خاص یا تاریخ معینہ کا علم ہو گا اُسے بقید تاریخ و سال بھی لکھ دوں گا۔