حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 84
حیات احمد ۸۴ جلد دوم حصہ اوّل کی اشاعت کے ساتھ شروع ہو گئی بلکہ براہین احمدیہ کی تصنیف اور اشاعت کے اعلان کے ساتھ ہی شور مخالفت اٹھا۔لیکن جب پہلی جلد کی اشاعت ہوئی تو مخالف کیمپ میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔اس مخالفت کا اظہار اخبار سفیر ہند امرتسر۔نورافشاں لو دہانہ۔اور رسالہ ودیا پر کا شک امرتسر میں کیا گیا۔نورافشاں اور سفیر ہند میں تو پادری صاحبان نے اور ودیا پر کا شک میں آریوں نے طوفان بے تمیزی برپا کیا۔ودیا پر کا شک کے ایڈیٹر باوا نرائن سنگھ صاحب وکیل امرتسر تھے۔خاکسار عرفانی کو باوا صاحب سے ان کی زندگی میں متعدد مرتبہ ملنے کا اتفاق ہوا بلکہ بعض کاموں میں وہ میرے ساتھ متحدہ اغراض کے لئے ملتے رہے۔وہ ان ملاقاتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زور قلم اور قوت استدلال کے قائل تھے۔ودیا پر کا شک میں بڑے زور کے ساتھ براہین کی تردید اور جواب کے دعوی کئے گئے ایسا ہی سفیر ہند اور نورافشاں میں بھی ان لوگوں نے صرف تردید اور تکذیب کے اعلان ہی نہیں کئے بلکہ سب وشتم سے بھی کام لیا جس کا شکوہ حضرت مسیح موعود کو کرنا پڑا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔بقیہ حاشیہ۔مصداق بنے۔ناظرین اُن کا یہ حال سن کر متعجب اور اس امر کے منتظر ہوں گے کہ ایسے دلیر اور شیر بہادر کون ہیں جو سب علماء وقت کے مخالف ہو کر ایسے جلیل القدر مسلمان کی تکفیر کرتے ہیں اور اپنی مہربان گورنمنٹ (جس کے ظلّ حمایت میں با امن شعار مذہبی ادا کرتے ہیں ) جہادکو جائز سمجھتے ہیں ان کے دفع تعجب اور ترفع انتظار کے لئے ہم ان حضرات کے نام بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔مولوی عبد العزیز اور مولوی محمد وغیرہ پسران مولوی عبد القادر ہیں۔جن سب کا ۱۸۵۷ء سے باغی و بدخواہ گورنمنٹ ہونا ہم اشاعۃ السنہ نمبر ۱۰ جلد ۶ وغیرہ میں ظاہر و ثابت کر چکے ہیں اور اب بھی پبلک طور پر سرکاری کاغذات کی شہادت سے ثابت کرنے کو موجود و مستعد ہیں اگر وہ یا ان کا کوئی نا واقف معتقد اس سے انکار کرے۔دوسرا سبب یہ کہ انہوں نے باستعانت وغیرہ معزز اہلِ اسلام لودہانہ (جن کی نیک نیتی اور خیر خواہی ملک وسلطنت میں کوئی شک نہیں ) بمقابلہ مدرسہ صنعت کاری انجمن رفاہ عام ایک مدرسہ قائم کرنا چاہا تھا اور اس مدرسہ کے لئے لودہا نہ میں چندہ جمع ہو رہا تھا کہ ان ہی دنوں مؤلف براہین احمدیہ