حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 565
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پر متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء اور ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء اور ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔بعضوں نے اپنی طرف سے افترا کر کے یہ بھی اپنے اشتہار میں لکھا کہ اس بچہ کی نسبت یہ الہام بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بادشاہوں کی بیٹیاں بیاہنے والا ہو گا لیکن ناظرین پر منکشف ہو کہ جن لوگوں نے یہ نکتہ چینی کی ہے انہوں نے بڑا دھوکا کھایا ہے یا دھوکا دینا چاہا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ماہ اگست ۱۸۸۷ء تک جو پسر متوفی کی پیدائش کا مہینہ ہے جس قدر اس عاجز کی طرف سے اشتہار چھیے ہیں جن کا لیکھر ام پشاوری نے وجہ ثبوت کے طور پر اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے ان میں سے کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا۔جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا ہے بلکہ ۱٫۸اپریل حاشیہ۔یہ مفتری لیکھرام پشاوری ہے جس نے تینوں اشتہار مندرجہ متن اپنے اثبات دعوی کی غرض سے اپنے اشتہار میں پیش کی ہیں اور سراسر خیانتوں سے کام لیا ہے۔مثلاً وہ اشتہار ۱/۸اپریل ۱۸۸۶ء کا ذکر کر کے اس کی یہ عبارت اپنے اشتہار میں لکھتا ہے کہ اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل تک تجاوز نہیں کر سکتا لیکن اس عبارت کا اگلا فقرہ یعنی یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا یہی وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔اس فقرہ کو اُس نے عمداً نہیں لکھا کیونکہ یہ اس کے مدعا کو مضر تھا اور اس کے خیال فاسد کو جڑھ سے کاٹتا تھا۔پھر دوسری خیانت یہ ہے کہ لیکھرام کے اس اشتہار سے پہلے ایک اور اشتہار آریوں کی طرف سے ہمارے نتینوں اشتہارات مذکورہ بالا کے جواب میں مطبع چشمہ نور امرتسر میں شائع ہو چکا ہے۔اس میں انہوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ ان تینوں اشتہارات کے دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ لڑ کا جو پیدا ہوا یہ وہی مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے۔اس اقرار کا لیکھرام نے کہیں ذکر نہیں کیا۔اب ظاہر ہے کہ آریوں کا پہلا اشتہار لیکھرام کے اس اشتہار کی خود بیخ کنی کرتا ہے۔دیکھو ان کا وہ اشتہار جس کا عنوان حسب حال اُن کے یہ ہے کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَاكِرِينَ منه