حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 323 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 323

حیات احمد ۳۲۳ جلد دوم حصہ سوم اس کی کچھ حیثیت نہ تھی۔معمولی چھوٹا سا گاؤں تھا۔مگر آپ نے مشیت ایزادی کے ماتحت اس ارادہ کو فتح کر دیا۔یہ تو کسی کو معلوم نہیں کہ حضور کا خاص مقصد اس سفر کا کیا تھا حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ ایک چلہ کرنا چاہتے تھے (چلہ سے مراد وہ چلہ نہیں جو عام پیر کرتے ہیں یا کراتے ہیں آپ ایک خاص مقصد کے لئے چالیس روز دعا کرنا چاہتے تھے۔خلوت میں رہ کر۔عرفانی) مگر آپ کو الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی اس لئے اس سفر کو ملتوی کر دیا ہے براہین احمدیہ کے متعلق اعلان براہین احمدیہ کی تصنیف کے متعلق میں جلد دوم نمبر اول و دوم میں کسی قدر لکھ چکا ہوں براہین احمدیہ کس طرح لکھی جاتی تھی اور کس طرح طبع ہوتی تھی یہ سلسلہ ۱۸۸۴ء میں بھی جاری تھا۔لیکن جب جلد چہارم شائع ہو رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے خاص الہام اور وحی سے اس سلسلہ کو بظاہر ملتوی کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی صورت بدل گئی براہین احمدیہ کا سلسلہ تو بند ہو گیا لیکن اس کے بعد حقیقت اسلام اور صداقت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حقانیت قرآن کریم پر مبسوط تصنیفات شائع ہونے لگیں۔جن کا ذکر اپنے اپنے موقعہ پر آئے گا براہین کے ابتدا پر کا حاشیہ :۔اس کے متعلق حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ نے جو بیان دیا ہے وہ میں یہاں مع اس مکتوب کے درج کر دیتا ہوں جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو لکھا تھا حضرت اقدس نے جب اس ارادہ کا ذکر کیا تھا تو حضرت منشی صاحب نے آپ سے اجازت برنگ وعدہ لی تھی کہ اس سفر میں حضرت کے ساتھ جاویں اس لئے آپ نے وہ مکتوب لکھا۔مکتوب اسمی حضرت منشی عبداللہ صاحب (۲) پوسٹ کارڈ مشفقی مکرمی اخویم میاں عبداللہ صاحب سَلَّمَهُ بعد سلام مسنون آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ابھی تک باعث بعض موانع یہ عاجز قادیان میں ہے سو جان پور