حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 85 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 85

حیات احمد ۸۵ جلد اول حصہ اوّل ہوا ہوتا ہے اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اور لوگوں کی روحانی اور اخلاقی امراض سے ان کو اطلاع ہو جاتی ہے۔دوئم سفر کی صعوبتیں انہیں ہر قسم کے مصائب اور شدائد کے برداشت کے قابل بنادیتی ہیں کیونکہ ایک مامور کی زندگی دنیا کے عرف میں آرام اور راحت کی زندگی نہیں ہوتی بلکہ وہ تو یہی کہتے ہیں:۔همه در دور این عالم امان و عافیت خواهند چه افتاد این سر ما را که میخواهد مصیبت را کیونکہ ہر طرف سے ایسے مصائب اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔اور چونکہ سفر میں انسان کو بڑے بڑے مصائب اٹھانے پڑتے ہیں۔اس لئے یہ ایک سامان ابتدا ہی سے اسے مصائب کا عادی کرنے کے لئے ہوتا ہے۔غرض اس کلیہ سے حضرت مرزا صاحب باہر نہ تھے۔انہیں اپنے والد بزرگوار کی اطاعت کے لئے اپنی جاگیر اور جائیداد کے مقدمات کے لئے سفر کرنے پڑے اور قادیان سے ڈلہوزی تک پا پیادہ سفر کیا۔آج سے قریباً پچاس سال پیشتر راستوں اور سڑکوں کا ایسا اہتمام نہ تھا اور نہ سفر کی سہولتیں حاصل تھیں۔پھر پہاڑوں کا دشوار گزار راستہ اور پیادہ پا طے کرنا آسان کام نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے اس سفر میں کیسی جفاکشی اور غیر معمولی ہمت سے کام لینا پڑتا ہوگا۔پھر پہاڑی قوموں کی سوشل لائف بہت کچھ قابل اعتراض ہے۔لیکن خدا کا یہ برگزیدہ جو تھوڑے ہی دنوں بعد مامور ہونے والا تھا با وجود اپنی وجاہت ، خوبصورتی اور زمانہ شباب اور ہر قسم کی آزادی کے جذبات کے خطرناک اپیل کرنے والے مقامات سے اسی طرح معصوم آیا جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے۔بارہا آپ نے ان ایام کے عجائبات سناتے ہوئے فرمایا ہے کہ :۔” جب کبھی ڈلہوزی جانے کا مجھے اتفاق ہوتا تو پہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا اور عبادت میں ایک مزا آتا۔میں دیکھا تھا کہ تنہائی کے لئے وہاں اچھا موقع ملتا ہے۔“ ترجمہ: ہر شخص اس دنیا میں امن و عافیت چاہتا ہے۔میرے دل کو کیا آن پڑی ہے کہ مصیبتوں کی خواہش کرتا ہے۔