حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 84 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 84

حیات احمد ۸۴ جلد اوّل حصہ اول کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا تھا۔اور وہ مجھے دلی یقین سے بر بالوالدین جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ ”میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے یعنی دین کی طرف صحیح اور سچ بات یہی ہے۔ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔“ ) کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۸۲ تا ۱۸۴ حاشیه ) مقدمات کے لئے سفر ان مقدمات کی پیروی کے لئے آپ کو ڈلہوزی اور لاہور تک کے سفر کرنے پڑے اور ڈلہوزی تک متواتر پیدل جاتے رہے۔یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ وہ لوگ جو اصلاح خلق کے کام پر مامور ہوتے ہیں اور منہاج نبوت پر مبعوث ہوتے ہیں انہیں کچھ نہ کچھ سفر اپنی بعثت اور ماموریت سے پہلے کرنے پڑتے ہیں۔یہ سنت اللہ ہمیں تمام انبیاء کے حالات میں نظر آتی ہے۔انبیاء کے لئے سفر ضروری ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر شام سے کون واقف نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین تک ایک سفر کرنا پڑا۔پھر مدین سے اپنے اہل کو لے کر سفر پر روانہ ہوئے۔حضرت مسیح علیہ السلام تو اپنے آپ کو بے خان و مان اسی لئے بتاتے ہیں اوائل میں ان سفروں کے متعلق کسی کوخبر نہیں ہوتی کہ کیوں ہیں مگر بعد میں آنے والے واقعات انہیں اس مامور کی زندگی کا ایک عظیم الشان جزو اور نشان بنا دیتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ ان سفروں میں اور بھی اللہ تعالیٰ کی مصالح اور حکمتیں ہوں گی مگر اتنا تو آسانی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان سفروں میں ایک تو وہ مختلف طبقات کے لوگوں سے مل کر دنیا کی رڈی حالت سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔اور اس طرح پر وہ جوش جو ہمدردی مخلوق کا اللہ تعالیٰ نے دیا