حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 72
حیات احمد ۷۲ جلد اول حصہ اول اور میرے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم اُس وقت زندہ تھے میں نے رو برو تمام گھر کے لوگوں کے سب حال ان کو کہہ دیا۔انہوں نے جواب دیا کہ اب ہم مقدمہ میں بہت کچھ خرچ کر چکے ہیں اگر پہلے سے کہتے تو ہم مقدمہ نہ کرتے مگر یہ عذر ان کا محض سرسری تھا۔اور ان کو اپنی کامیابی اور فتح پر یقین تھا چنانچہ پہلی عدالت میں تو ان کو فتح ہو گئی مگر چیف کورٹ میں مدعی کامیاب ہو گئے اور تمام عدالتوں کا خرچہ ہمارے ذمہ پڑا اور علاوہ اس کے وہ روپیہ جو پیروی مقدمہ کے لئے آپ نے قرضہ اٹھایا تھا وہ بھی دینا پڑا اس طرح پر کئی ہزار روپیہ کا نقصان ہوا۔اور میرے بھائی کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا کیونکہ میں نے ان کو کئی مرتبہ کہا تھا کہ شرکاء نے اپنا حصہ میرزا اعظم بیگ لاہوری کے پاس بیچا ہے آپ کا حق شفعہ ہے روپیہ دے کر لے لو مگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا اور وقت ہاتھ سے نکل گیا اس لئے اس بات پر پچھتاتے رہے کہ کیوں ہم نے الہام الہی پر عمل نہ کیا یہ واقعہ اس قدر مشہور ہے کہ پچاس آدمی کے قریب اس واقعہ کو جانتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴ ۲۵۵،۲۵) اسی طرح پر جیسے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبل از وقت دے دی تھی۔مرزا غلام قادر مرحوم کی وفات کے متعلق بھی قبل از وقت آگاہ کیا۔اور اس وقت آپ قادیان میں نہ تھے بلکہ امرتسر میں تھے۔آپ کو دکھلایا گیا کہ قطعی طور پر مرزا غلام قادر صاحب کی زندگی کا پیالہ لبریز ہو چکا ہے اور وہ بہت جلد فوت ہو جانے والے ہیں۔تب حضرت مرزا صاحب نے اپنے بھائی کو خط لکھا۔کہ آپ امور آخرت کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ مجھے دکھلایا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں۔مرزا غلام قادر صاحب نے گھر والوں کو بھی اس واقعہ سے اطلاع دے دی۔پھر چند ہفتوں بعد ان کا انتقال ہو گیا۔انتقال ہونے سے دو تین دن پہلے پھر آپ کو دکھایا گیا کہ گویا مرزا سلطان احمد مرزا غلام قادر صاحب کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ