حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 62
حیات احمد ۶۲ جلد اوّل حصہ اول حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے قتل کا منصوبہ اس خاندان کے ساتھ کچھ یہ خصوصیت چلی آتی ہے کہ بنی عمام ( چچا زادوں) کی طرف سے ہمیشہ ان کو تکالیف پہنچتی رہی ہیں۔کہتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے قتل کا منصو بہ مرزا امام الدین صاحب آپ کے برادر زادہ نے کیا۔یہ شخص مرزا غلام مرتضی صاحب کے خاندان کا آخری وقت تک دشمن رہا اور نہایت تلخی کے ساتھ وہ اپنے منصوبوں میں ناکام رہا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے قتل کا منصوبہ اس نے کیا اور سوچیت سنگھ نامی ایک شخص ساکن بھینی کو اس غرض کے لئے اپنے ساتھ ملا کر مامور کیا کہ وہ موقعہ پا کر قتل کر دے۔سوچیت سنگھ کا اپنا بیان حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی حفاظت کے متعلق اعجازی رنگ رکھتا ہے۔مرزا صاحب اس وقت جس بالا خانے میں رہتے تھے وہاں اس دیوار پر سے چڑھ کر جا سکتے تھے۔جہاں آج کل نواب محمد علی خان صاحب نے مکانات بنوائے ہوئے ہیں یہاں ایک کچا دیوان خانہ تھا اور ایک عرصہ تک حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے زمانہ میں یہاں لنگر خانہ رہا ہے۔وہ کہتا ہے میں متعدد مرتبہ اس کچی دیوار پر سے اوپر چڑھا۔میں نے جب دیکھا تو مجھے وہاں دو آدمی ان کے محافظ نظر آئے اور اس خوف سے میں نہیں جاسکا۔اور بالآخر میں نے اس ارادہ بد سے توبہ کی۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس فی الواقعہ کوئی محافظ نہ تھے۔مگر یہ تصرف ربانی تھا کہ سوچیت سنگھ کو ہمیشہ وہاں دو پہرہ دار نظر آتے تھے۔اور اس حفاظت وصیانتِ الہی نے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کو اس ناپاک منصوبہ سے بچالیا۔رعب وشوکت مرز اغلام مرتضی صاحب کا چہرہ پر رعب اور پر شوکت تھا۔اور کسی شخص کو یہ جرأت نہ تھی کہ ان سے آنکھ ملا کر گفتگو کر سکے۔اور نہ کسی کا یہ حوصلہ ہوتا تھا کہ بلا تکلف ان کے مکان پر چلا جاوے۔بلکہ سیڑھیوں پر جانے سے پہلے دریافت کر لیتا اور پھر بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوئے