حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 53
حیات احمد ۵۳ جلد اول حصہ اوّل کہ جس کی نظیر بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔اور وہ آپ کا وفادارانہ جذبہ تھا۔قرآن مجید نے حکومت وقت کی سچی فرمانبرداری کی تعلیم دی ہے۔اور اس لحاظ سے ایک سچے مسلمان کا یہ فرض ہے کہ جب وہ ایک رعایا کی حیثیت سے رہتا ہو تو اپنی حکومت کا سب سے بہتر وفادار شہری ہو۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے اپنی سپرٹ کا اظہار عملی رنگ میں ہر ایسے موقع پر کیا جب اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔سب سے اوّل حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب بیگووال سے بلائے گئے۔اور مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ان کی جڑی جاگیر کا ایک حصہ انہیں واگزار کر دیا تو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گئے۔اور انہوں نے کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔جیسا کہ سرلیپل گریفن کے بیان میں ناظرین پڑھ چکے ہیں۔نو نہال سنگھ۔شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورہ میں بھی حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب ہمیشہ فوجی خدمات پر مامور رہے۔اور ۱۸۴۱ء میں وہ ایک پیادہ فوج کے کمیدان بنا کر پشاور بھیجے گئے۔اور مفسد ہ ہزارہ میں انہوں نے اپنی نمایاں خدمات کا ثبوت دیا۔جن سے یہ بات کھل گئی کہ مرزا غلام مرتضی صاحب جیسے ایک اعلیٰ درجہ کا سپاہی ہے ویسے ہی اعلیٰ درجہ کا سٹیٹسمین (مدبر ) بھی ہے۔جب ۱۸۴۸ء کی بغاوت ہوئی اُس وقت حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے اپنی سرکار کی پوری وفا داری کا ثبوت دیا۔اور اس کی طرف سے لڑے۔مفسد ہ ۱۸۵۷ء میں خدمات جب ۱۸۵۷ء کا غدر ہوا اور ملک میں ایک طوفان بے تمیزی پیدا ہو گیا۔اس وقت بعض لوگوں کو یہ خیال ہو گیا تھا کہ وہ اپنی گم شدہ ریاستوں کو غدر کی آڑ میں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔مگر حضرت مرزا صاحب نے اس حالت میں بھی سرکار انگریزی کے ساتھ کچی وفاداری اور دوستی کا پورا ثبوت دیا اور اس عہد دوستی کو ایسا نباہا کہ وہ آج تک ایک قابل قدر خدمت سمجھی جاتی ہے۔اُس مفسدہ کے وقت بھرتی میں مدد دینے کے علاوہ پچاس گھوڑے معہ ساز وسامان وسواران اپنے خرچ