حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 51
حیات احمد ۵۱ جلد اوّل حصہ اوّل دشمنوں کے ساتھ سلوک جناب مرزا غلام مرتضی صاحب قبلہ با وجود اپنی طبی حذاقت کے بلا تفریق ہندو مسلمان، چوہڑہ، چمار، امیر، غریب سب کو فیض پہنچاتے تھے۔اور دور دور سے لوگ ان کے معالجہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے آتے تھے۔اور یہ مسلم بات ہے کہ ان کا ہاتھ دستِ شفا مشہور تھا۔دشمنوں کو بھی اپنے اس فیض سے محروم نہ رکھتے تھے۔بلکہ بہت جلد ان کی طرف توجہ کرتے۔جب موقع ہوتا اور جس طرح بھی ممکن ہوتا دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک سے کبھی نہ رکتے۔یہ بے نظیر خوبی بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔دنیا دار تو خصوصیت سے اس عیب میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے دشمنوں کو بجز گزند پہنچانے کے اور کچھ جانتے ہی نہیں۔مگر حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب ہمیشہ اپنے دشمنوں سے نیک سلوک کرتے۔قادیان میں اُن کی رعیت کے بعض محسن کش لوگ ان کے مقابلہ میں قسم قسم کی شرارتیں کرتے اور مقدمات کا سلسلہ شروع کر دیتے لیکن وہ ساتھ ہی جانتے اور یقین کرتے تھے کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کا وجود ان کے لئے ابر رحمت ہے۔وہ کینہ تو ز اور انتقامی فطرت رکھتے ہی نہ تھے۔کہتے ہیں کہ ایک دکھ دینے والا دشمن جو قادیان ہی کا باشندہ تھا فوت ہو گیا۔ایک شخص نے آکر میرزا صاحب کو مبارکباد دی تو انہوں نے اس کو اپنی مجلس سے نکال دیا اور سخت ناراض ہوئے۔اس کی وفات پر اظہار افسوس کیا۔یہ فطرت ہر شخص کو نہیں دی جاتی اور بجز وسیع الحوصلہ انسان کے کسی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے دشمنوں سے نیک سلوک کرے۔یہ لوگ جو آئے دن ان کی مخالفت کرتے۔جب کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے تو ان کا حضرت مرزا صاحب کے پاس آکر صرف یہ کہ دینا کافی ہوتا کہ ہم تو آپ کی رعایا ہیں پھر وہ اپنی شان اور ہمت کے خلاف پاتے کہ ان کی ایذا رسانی کی کوشش کریں۔بلکہ ان کی تکالیف اور شکایت کو دور کر دینے کے لئے ہر ممکن سعی فرماتے۔حکام چونکہ حضرت مرزا صاحب کی بہت عزت و احترام کرتے تھے اور مقامی حکام ان کے مکان پر تشریف لاتے تھے۔اس لئے ایسے معاملات میں جو حکام سے متعلق ہوتے حضرت مرزا صاحب بلا تکلف مراسلہ لکھ دیتے اور معاملات کو رفع دفع کرا دیتے۔