حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 46 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 46

حیات احمد ۴۶ جلد اوّل حصہ اول آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے۔اور اُن کے مال و متاع سب لوٹے گئے۔کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا۔اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے، دہرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اُس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا۔جس میں سے پانسونسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا۔جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مردو زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے۔اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اُن ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔“ کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۷۳ تا ۱۷۵ حاشیه ) جناب مرزا غلام مرتضی صاحب غرض میرزا عطا محمد صاحب اپنے اہل و عیال کو لے کر ریاست کپورتھلہ کے علاقہ میں بمقام بیگووال چلے گئے۔ریاست کپورتھلہ اس وقت راجہ فتح سنگھ صاحب کے قبضہ میں تھی۔کئی سال تک خاندان بیگووال میں رہا اور اسی جگہ مرزا عطا محمد صاحب نے وفات پائی اور جناب مرزا غلام مرتضی صاحب آپ کے فرزند رشید خاندان مذکور کے سر پرست قرار پائے اور مرزا غلام مرتضی صاحب راتوں رات مرزا عطا محمد صاحب کا جنازہ قادیان لائے اور ان کو یہاں خاندانی قبرستان میں دفن کیا۔اس کے تھوڑا ہی عرصہ بعد رنجیت سنگھ نے دوسری چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست بنالی۔اور لودہانہ سے پشاور تک اور کشمیر سے حدود سندھ تک اپنی ریاست کا سلسلہ پھیلا لیا۔اور مہارا جگی کا لقب اختیار کر لیا۔اگر چہ رنجیت سنگھ کا عہد مسلمانوں کے لئے مصائب ہی کا زمانہ تھا۔تا ہم وہ بذات خود دوسرے سکھوں سے نسبتاً بہتر اور وسیع الاخلاق تھا۔مرزا غلام مرتضی صاحب نے اس کے دربار میں رسائی حاصل کر لی۔اور مہاراجہ صاحب نے انہیں واپس بلا لیا۔اور ان کی جدی