حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 45 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 45

حیات احمد ۴۵ جلد اول حصہ اوّل ا افسوس ان بعض نوابوں اور امیروں کی حالت پر کہ اس چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بکلی بے پرواہ ہو کر اور خدا تعالیٰ سے سارے علاقے تو ڑ کر دل کھول کر ارتکاب معصیت کرتے ہیں۔وہ شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں۔اور اس طرح اپنی زندگی کو نہایت ناپاک اور پلید کر کے اور عمر طبعی سے بھی محروم رہ کر اور بعض ہولناک عوارض میں مبتلا ہو کر جلد تر مر جاتے ہیں۔اور آئندہ نسلوں کے لئے نہایت خبیث نمونہ چھوڑ جاتے ہیں۔جناب مرزا عطا محمد صاحب مرزا گل محمد صاحب کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے مرزا عطا محمد صاحب جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دادا ہیں گدی نشین ہوئے۔چونکہ حضرت مرزا صاحب کے لئے یہ مقدر تھا کہ آبائی شہرت اور عزت کا سلسلہ منقطع ہو کر نیا سلسلہ مجد واکرام کا اُن سے شروع ہو اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے گو سکھوں کے حملے کو روکنے اور ریاست بچانے کے لئے بڑی بڑی تدبیریں کیں لیکن ہر تدبیر میں ناکامی ہوتی رہی۔لڑائی میں سکھ غالب آئے۔ان کے عہد حکومت کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے خود لکھا ہے کہ دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں۔مگر جبکہ قضاء و قدر اُن کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیان رہ گئی اور قادیان اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر ایک قصبہ تھا اور اس کے چار بُرج تھے اور بُرجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند تو ہیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جا سکتے تھے اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا۔اوّل فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیان میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی