حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 441
حیات احمد ۴۴۱ جلد اول حصہ سوم خدا کے فضل سے حاصل کر لی۔باوجود ایک مقابل نوجوان کے آپ مِنْ وَجْهِ مجر دانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔پبلک حالات کے ماتحت جو تعلقات تھے وہ نہایت شریفانہ اور محسنانہ رنگ اپنے اندر رکھتے تھے۔مخلوق کی بھلائی اور نفع رسانی کے لئے ہر وقت تیار رہتے۔خدام سے اس وقت بھی سلوک ایسا تھا کہ اس میں نفس انسانیت کے شرف اور عزت کو ضائع نہیں ہونے دیا۔انہیں ذلیل اور اچھوت نہ سمجھتے بلکہ جو سلوک اپنی ذات اور نفس سے روا ر کھتے وہی ان کے لئے پسند کرتے۔جوخود کھاتے ان کو بھی کھلاتے اور جو خود پہنتے وہ ان کو بھی پہناتے بلکہ بعض حالتوں میں آپ ان سے ایسا سلوک کرتے جو اپنے نفس سے بھی نہیں کرتے تھے۔جب اس سے آگے قدم رکھا اور خاندانی ضروریات اور حالات نے آپ کو اپنے زمینداروں اور کاشتکاروں کے ساتھ حفاظتِ حقوق کے مقدمات کے سلسلہ میں ڈالا تو آپ نے کبھی حق اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دیا اور نہ کسی کے نقصان کو گوارا کیا باوجود یکہ طبیعت سخت متنفر تھی مگر والد ماجد کے حکم کی تقبیل اپنی سعادت کبھی اور یہ بہت بڑا مجاہدہ آپ کا تھا۔اور اس میں آپ کامیاب ہوئے۔اسی اثناء میں سرکاری ملازمت بھی والد ماجد کے ہی ارشادات کو مدنظر رکھ کر کر لی۔اور اس زمانہ میں آپ نے اپنے عمل سے دکھایا کہ کس طرح ایک اہلکار ہر قسم کے لالچوں اور تحریصوں سے بچ سکتا ہے۔باوجو یکہ آپ کا مشاہرہ قلیل تھا مگر کبھی آپ نے جائز نہ سمجھا کہ کسی شخص سے کسی قسم کا فائدہ اٹھا ئیں۔جس کو دوسرے اہلکار شیر مادر سمجھتے تھے۔پھر آپ نے یہ بھی دکھایا کہ فرض منصبی کو کس محنت اور دیانت سے ادا کرنا چاہئے کبھی آپ کام باقی نہ رکھتے۔اور روز کا کام روزانہ ختم کرتے۔گھر پر نہ لاتے تا کہ اس سلسلہ میں اہلِ غرض مکان پر نہ آ سکیں۔جو دوسرے اہلکار عمداً کرتے تا کہ کچھ وصول کریں۔دفتر کے کام کے بعد اپنا وقت یاد الہی میں یا تبلیغ دین یا کسی کو پڑھا دینے میں صرف کرتے۔بالکل باہمہ اور بے ہمہ کی سی زندگی تھی۔آخر اسے بھی ترک کیا۔اور پھر آپ نے خدا تعالیٰ کے اشارہ کے ماتحت روحانی مجاہدات کی طرف قدم بڑھایا اور انوار سماوی کا مورد ثابت کر دیا۔غیرت دینی حمایت اسلام کا وقت آچکا تھا۔آپ قلم لے کر میدان میں