حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 428
حیات احمد ۴۲۸ جلد اول حصہ سوم یہ تھا کہ میں خان بہادر صاحب سے بعض واقعات بیان کرتا۔اور ان سے توثیق چاہتا۔اور وہ ان کو اگر صحیح ہوتے تو اسی طرح تصدیق کرتے۔اور یا جو اس میں اصلیت ہوتی اس کو بیان کر دیتے۔مرزا فضل احمد صاحب مرحوم سے مجھے بہت زیادہ وقت نہیں ملا۔وہ جب قادیان میں آتے تھے مجھ سے ملتے تھے۔ان کا معمول تھا کہ وہ موجودہ قصر خلافت کے پچھواڑے سے عموماً آیا کرتے تھے اور مرزا نظام الدین صاحب کے مکان میں آ کر مجھے اس جگہ ملتے جہاں آج کل دفتر ناظر امور عامہ ہے اور میں ان سے بعض حالات حضرت کے سلوک اور طرز عمل کے متعلق پوچھتا وہ بیان کر دیتے یہ خلاصہ ہے میرے اس ماخذ کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح کے پہلے حصہ کا ہے۔بقیہ حاشیہ: - کو علم ہو۔اور کوئی فردان افراد واقعیہ سے خدا کے علم سے باہر نہ رہ جائے۔ورنہ لازم آوے گا کہ زید کا علم تو خدا کو ہو۔مگر عمرو کا نہ ہو۔پس جب ان سب پر خدا کا علم محیط ہوا۔تو بالضرورت ثابت ہوا کہ ان سب کا اس کو شمار معلوم ہے۔اور یہی مطلب تھا۔قولہ۔خدا وہ جانتا ہے۔جو اس کے جاننے کے لائق ہے۔اقول۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا زانی کو اس حالت زنا میں اور چور کو اس کی حالت چوری میں نہیں جان سکتا۔کیونکہ اس سے بڑھ کر اور کون سا علم مکروہ ہوگا۔جو اس کی شان کے لائق نہ سمجھا جائے۔حضرت خدا تو وہ ذات کامل ہے کہ کوئی موجود اس کے علم سے باہر نہیں۔بلکہ اس کے عدم علم سے عدم سے لازم آتا ہے۔مگر وہ آپ کا فرضی ایشر کیسا ہے کہ ایک شے تو دنیا میں فی نفس الامر موجود ہے۔اور وہ شے خود جانتی ہے۔جو میں موجود ہوں پر ایشر کو اس کے وجود کی کچھ خبر ہی نہیں۔عَالِمُ الغَیبی تو خدا کی ایک صفت لا ينفك ہے۔جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوسکتی۔اس صفت کو دوسرے افعال پر قیاس کرنا جو خدا کی شان کے لائق نہ ہوں۔یہ باوا صاحب کی لیاقت علمی ہے اور انہی کی شان کے لائق ہے۔قولہ۔پر میشر اپنے نیم کے مطابق جس روح کے اعمال قابل نجات دیکھتا ہے۔اس کو نجات کر دیتا ہے۔