حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 424 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 424

حیات احمد ۴۲۴ جلد اول حصہ سوم دوم۔براہین کی تصنیف سے لے کر بیعت لینے کی ماموریت تک ۱۸۷۹ء سے لے کر ۱۸۸۹ء تک سوم۔اعلان بیعت سے لے کر دعویٰ مسیح موعود تک ۱۸۸۹ء سے لے کر ۱۸۹۰ ء تک۔چہارم۔دعویٰ مسیح موعود سے لے کر وفات تک۔۱۸۹۰ء سے لغایت ۱۹۰۸ء۔پہلے حصہ کے واقعات اور سوانح زندگی کا جمع کرنا سب سے مشکل کام ہے لیکن جہاں تک مجھے اسباب اور مواقع مل سکے ہیں۔میں نے کوشش کی ہے کہ آپ کی زندگی کے واقعات کو جمع کر دیا جاوے۔ان واقعات اور حالات کے مجموعہ میں میں نے جہاں تک روایات کا دخل ہے صرف ان لوگوں کی روایات کو لیا ہے۔جو اپنی عام شہرت کے لحاظ سے راست باز اور بے غرض تھے اور جو روایات عام طور پر بکثرت مشہور تھیں۔نیز ان لوگوں کی روایات لیں جن کو آپ کی صحبت میں کسی نہ کسی وجہ سے رہنے کا موقع ملا ہے۔اور اس طرح پر وہ ان حالات کے دیکھنے والے تھے۔آپ کے بچپن کے متعلق یا آپ کی پہلی اولاد کے متعلق جو حالات اور روایات ہیں۔وہ حضرت اقدس کی دائی بقیہ حاشیہ: غرض ثابت ہو گیا کہ ارواح بے انت نہیں ہیں۔صرف آپ کی نامنہی بے انت ہے۔اب خود منصف بنیئے کہ کیا وہ آپ کی خیالی منطق سچی ہوئی یا آخر وہ ہمارا ہی بچن ٹھیک نکلا۔قولہ۔خدا سب کچھ نہیں جان سکتا۔اقول۔واہ حضرت آج معلوم ہوا کہ بہت سی چیز میں خدا سے نامعلوم رہی ہوئی ہیں۔ورنہ اب تک تمام دنیا یہ جانتی رہی کہ کوئی چیز اس سے بھولی ہوئی نہیں ہے اب یہ تو فرمائیے کہ آپ کا روح بھی خدا کو معلوم ہے یا نہیں۔اور کچھ چیز رکھتا ہے یا نہیں کہ امرتسر میں ایک باوا نرائن سنگھ بھی سکونت رکھتے ہیں۔پر شاید باعث عہدہ وکالت اور مشہور و معروف ہونے آپ کے خبر رکھتا ہوگا۔خیر یہ نہیں سہی۔مگر براہ مہربانی کوئی اور دو چار غریبوں مسکینوں کے روح کو بطور نظیر کے پیش کیجئے۔جو آپ کے ایشور کو معلوم نہ ہوں۔حضرت سلامت یہ آپ کے سب مزخرفات ہیں۔ورنہ اگر خدا کو اپنے کل موجودات معلوم نہیں۔تو پھر وہ ان پر خدائی کیوں کر کرتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ خدا تو