حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 423
حیات احمد ۴۲۳ جلد اول حصہ سوم عنوان یا ترتیب سے پہلے نہیں لکھ سکا مگر وہ اسی پہلی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں یا مجھے بعد میں معلوم ہوئے ہیں۔جیسا کہ میں کئی بار ذکر کر چکا ہوں کہ میری غرض ان واقعات کو جمع کر دینا ہے اور بعد میں آنے والے اس کو جس طرح چاہیں گے استعمال کریں گے۔اس لئے میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا کہ ان کے بیان میں کوئی ترتیب مد نظر نہیں رہ سکی۔متفرق امور سوانح کے حصص اور مآخذ میں نے اس کتاب میں حضرت اقدس کے سوانح کے چار حصے کئے ہیں یا یوں کہو کہ آپ کے حالات زندگی کی تقسیم بھالا زمانہ چار وقتوں پر کی ہے۔اوّل۔آپ کی پیدائش سے لے کر زمانہ براہین احمدیہ کی تصنیف تک یعنی ۸۳۹ سے لے کر ۱۸۷۹ء تک۔بقیہ حاشیہ: - ہے۔اگر سچ سچ بے انت ہوتے تو موت ان سب کا کس طرح انت ظاہر کر دیتی۔اب جس حالت میں موت سے ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو پھر کیا مکتی سے ان کا خاتمہ ہونا کچھ مشکل ہے۔اس مقام پر ہم کو بڑا تعجب ہے کہ آپ کے ایشور کو تو روحوں کی تعداد تک معلوم نہیں تھی اب یہ کیا باعث ہے کہ مارنے کے وقت وہ سب یاد آ گئے۔غرض جس حالت میں آپ لوگوں نے یہ اقرار کر دیا ہے کہ ہر پر لو کے سر پر ایشور آپ کا تمام جانوران کو ہلاک کر دیتا ہے۔تو اس صورت میں یہ اقرار کرنا چاہیئے کہ وہی ایشور آپ کا اُن تمام جانوروں کو گن بھی سکتا ہے۔اور ان سب کو مکتی بھی دے سکتا ہے۔ورنہ یہ بات کہنی پڑے گی کہ ایشر سب جانوروں کے ہلاک کرنے پر تو قادر ہے۔مگر ان سب کے شمار کرنے اور مکتی دینے پر قادر نہیں۔حملا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے رضی اللہ عنہ کی تحقیق کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سن پیدائش ۱۸۳۵ء ہے۔(سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ ۸ جدید ایڈیشن شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) (ناشر)