حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 422
حیات احمد ۴۲۲ جلد اول حصہ سوم میں خدا کی قدرتِ اوّل کا مظہر ہوں۔اور منہاج نبوت پر اتمام حجت کریں اس کا ظہور براہین احمدیہ کی تصنیف سے ہوتا ہے۔میں اس کے متعلق آگے چل کر لکھوں گا۔اس جلد میں براہین احمدیہ کی تالیف تک کے واقعات کو ختم کر دینا مقصود ہے۔چونکہ آپ کی زندگی کے حالات جو مجھے اپنی تحقیق اور جدو جہد سے ملے ہیں۔زمانہ براہین تک لکھ چکا ہوں۔اس لئے ے قبل اس کے کہ میں اگلا حصہ لکھوں۔جو براہین کی تصنیف سے لے کر اعلان بیعت تک ہوگا۔میں ضروری سمجھتا ہوں کہ میں بعض متفرق امور اور واقعات کا ذکر کر دوں۔جن کو میں کسی بقیہ حاشیہ : - عدد ہی ہوتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ لفظ ایک کا جو خدا پر اطلاق پاتا ہے عدد ہے۔اور یہی غرض تھی۔اور چونکہ آپ کی سب غلطیوں کی اصلاح کرنا موجب طوالت کلام ہے۔اور کسی فارغ آدمی کا کام ہے۔اسی واسطے اب ہم اسی پر کفایت کر کے آپ کو یہیں چھوڑ کر باوا نرائن سنگھ کی خبر لیتے ہیں۔قولہ ارواح بے انت ہیں۔اقول۔حضرت سوامی جی نے تو صاف اقرار کر لیا کہ ارواح بے انت نہیں ہیں۔محدود اور معدود ہیں۔اور ہم اس کو اس رسالہ میں لکھ بھی چکے مگر آپ کا انکار عجب بے انت ہے جو اب تک چلا جاتا ہے۔خیر اگر آپ کا دل سوامی جی کے اقرار سے قرار نہیں پکڑتا۔تو کچھ ضرور نہیں۔ہم نے دلائل عشرہ مذکورہ میں آپ کے دل کا ایسا بندو بست کر دیا ہے کہ اب ضرور قرار پکڑ جائے گا۔اور عنقریب ہم اس بات کی خوشخبری سنیں گے کہ آپ نے اس حساب اور منطق سے جس کی ہم کو ترغیب دیتے تھے۔تو بہ کر لی اور اس بے انت ضدیت سے باز آ گئے اور نیز آپ کو مبارک ہو کہ علاوہ ان دلائل عشرہ کے وہ آپ کے بے انت جانور دام تعداد میں یوں بھی پیش کئے ہیں کہ بموجب اصول آپ کی سماج کے جب پر لو آتا ہے تو ان تمام جانوروں کو صیاد اجل کا پکڑ لیتا ہے۔اور ایک ایک پر چھری موت کی چلاتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنے جانور کہ جن کا نام آپ نے بے انت رکھا ہوا ہے۔ایک دم میں اس دنیا کے قفس کو اپنے اس بے انت وجود سے خالی کر دیتے ہیں اور بھیٹر یا موت کا ایک ایک کر کے سب کو کھا جاتا