حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 421 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 421

حیات احمد ۴۲۱ جلد اول حصہ سوم اور اس کے خلاف براہم سماج نے خطر ناک طور پر حملہ کیا تھا۔اور آریہ سماج بھی اس کا مؤید تھا عیسائی وحی اور نبوت کے قائل تو تھے۔اس لئے آپ نے آریہ سماج اور براہم سماج پر پوری قوت اور طاقت سے نہ صرف منقولی رنگ میں حملہ کیا تھا بلکہ آپ نے حالی رنگ پیدا کر کے اس فتنہ کا مقابلہ کیا یہ امور اپنے مقام پر آئیں گے۔چونکہ اسلام پر ان لوگوں کے حملہ کا طریق عیسائیوں کے مقابلہ میں جدا گانہ تھا۔آپ نے آریہ سماج اور براہم سماج کے لیڈروں اور بانیوں کو مقابلہ کے لئے بلایا۔خود آریہ سماج کے بانی اور اس کے دست و باز و سرگرم لیڈر ان پر اتمام حجت کیا۔جس کے واقعات میں او پر لکھ آیا ہوں۔اور اب وقت آ گیا تھا کہ آپ دنیا بقیہ حاشیہ:- اقول۔اے حضرات حقیقی عدد تو ایک ہی ہے۔جس سے سب اعداد تالیف پاتے ہیں۔اگر ایک عدد نہیں تو پھر دنیا میں عدد کون سا باقی رہا۔عدد کی تو یہی تعریف ہے کہ وہ ایک مقدار ہے۔جو واحد وغیرہ اعداد پر بولا جاتا ہے۔شاید کسی نیم محاسب نے لکھ مارا ہوگا جو واحاد اعداد میں داخل نہیں۔سو آپ نے اُس تحریر کو سچ مچ درست ہی سمجھ کر ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ہم تو تب جانتے کہ اس پر کوئی دلیل بھی لکھتے۔کیا جب عدالت میں بابت کسی ایک عدد شے کا نالش ہو تو مقدمہ اس وجہ پر خارج ہوسکتا ہے کہ ایک کچھ چیز ہی نہیں ہے۔اور کسی شمار میں داخل نہیں۔یا کوئی منشی قانوناً مجاز ہوسکتا ہے کہ ایک روپیہ تک بے تامل رشوت لے لیا کرے۔اس عذر سے کہ ایک تو اعداد میں داخل ہی نہیں ہے۔اور یہ جو آپ نے تحریر کیا ہے کہ خدا بے انت ہے۔اس کو واحد کس طرح بولا جائے۔سو یہ بھی آپ کی بے انت غلطیوں میں سے ایک غلطی ہے۔کیونکہ خدا اس وجہ سے واحد کہلاتا ہے کہ لاشریک ہے اور دوسری تعدادوں سے جن میں اہل شرک گرفتار ہیں، منزہ ہے۔پس ظاہر ہے کہ اس جگہ واحد اس غرض کے لئے مستعمل ہوا۔جس طرح اور اعداد استعمال پاتے ہیں۔تو پھر کیا کچھ وہ عدد نہ ہو۔یا خدا سے متعلق نہ ہو سکے کیا آپ کو اس میں کچھ شک ہے۔وہ خدا صرف ایک ہے کئی ایک نہیں ہیں۔غرض عدد ایک کا خدا پر بغرض رفع شک تین وغیرہ کے اطلاق پاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جو مقدار کسی عدد کا ابہام دور کرے۔وہ بھی