حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 400 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 400

حیات احمد ۴۰۰ جلد اول حصہ سوم نے آپ کو دقبال گش فطرت عطا کی تھی۔اور چونکہ آپ دنیا میں مسیح موعود کے نام سے مبعوث ہونے والے تھے۔اسی لئے بَدْوِ شَبَاب کے ساتھ ہی عیسائی مذہب کے حملوں سے واقف ہو چکے تھے۔اور چونکہ یہ اس زمانہ کی بات ہے۔جبکہ مرزا سلطان احمد صاحب آپ کے گھر میں پیدا ہوئے۔اس لئے مرزا سلطان احمد صاحب کی زندگی کے ابتدائی زمانہ میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ بڑے جوش اور جرات سے عیسائی مذہب کے خلاف قلم اٹھا رہے ہیں۔خود میرزا سلطان احمد صاحب کا اپنا بیان ہے کہ:- عیسائی مذہب کے خلاف حضرت کو اس قدر جوش تھا کہ اگر ساری دنیا کا جوش ایک پلڑے میں اور حضرت کا جوش ایک پلڑے میں ہو تو آپ کا پلڑا بھاری ہوگا۔“ یہ بھی اسی فطرت کو ثابت کرتا ہے کہ آپ کسر صلیب کے لئے مامور ہونے والے تھے۔غرض آپ کے روز وشب کی یہی کیفیت تھی کہ راتوں کو خدا کے حضور گریہ وزاری اور دن کو جہاد قلم بقیہ حاشیہ:- بن بیٹھے ہیں۔وہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ ہرامر پر خدا قادر نہیں ہے۔جیسے وہ اپنی نظیر پیدا نہیں کر سکتا۔اپنے آپ کو ہلاک نہیں کر سکتا۔ان خوش فہموں پر واضح رہے۔جو یہ مثال اس موقع سے کچھ تعلق نہیں رکھتی۔بلکہ اصل مسئلہ یوں ہے کہ جو افعال خدا کی صفات قدیمہ کے برخلاف ہیں۔اور اس کی شان بلند کے خلل انداز ہیں۔ایسے افعال خدا ہر گز نہیں کرتا۔اور باقی سب افعال پر قادر ہے۔مثلاً خدا اپنے آپ کو ہلاک نہیں کرسکتا۔کیونکہ وہ زندہ جاوداں ہے۔اور حَيٍّ لَا يَمُوت اس کی صفت قدیمی ہے۔اگر خود کشی ممکن ہو۔وہ صفت قدیمی باطل ہو جائے گی۔اسی طرح وہ کوئی اپنی مثل پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ واحد لا شریک ہونا اُس کی صفت قدیمی ہے۔اور اپنا ہمتا پیدا کرنا اس صفت کے برخلاف ہے۔اسی طرح وہ اپنے موجودات سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔کیونکہ عالم الغیب ہونا اس کی صفت قدیمی ہے۔اور بے علم ہونا اس کے برخلاف ہے۔اورسوا ان حالات کے جو اس کی صفات قدیمہ کے لائق نہیں ہیں اور سب امور میں خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے۔پس جیسے خدا اس بات پر قادر ہے کہ سب حیووں کو وقت پرکو آنے کے مار دیتا ہے۔ویسا ہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ سب حیووں کو مکتی دیدے۔بعض حضرات نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ دفعہ ے اور ۸