حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 396 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 396

حیات احمد ۳۹۶ جلد اول حصہ سوم طریق تھا کہ اگر کوئی اچھوتا خیال قرآن مجید کی تلاوت کے وقت یا کسی دوسرے وقت آپ کے قلب میں اترا تو آپ اس خیال سے کہ یہ یاد سے نہ اتر جائے۔آپ یہ کوشش کرتے تھے کہ اسے کسی جگہ نوٹ کر لیں۔غرض آپ کی زندگی میں یہ معمول تھا۔یہ طریق نہ تھا کہ کسی مستقل کتاب کے لکھنے سے پہلے اس کے نوٹ لکھیں۔بلکہ وہ قلم برداشتہ لکھا کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ چھپا کرتی تھی۔یادداشت نویسی کا ایک عام طریق تھا کہ جہاں کوئی بات ایسی معلوم ہوئی وہ بطور یادداشت کے لکھ لی۔اس قسم کی یادداشتوں کو اوائل میں آپ فارسی میں لکھتے تھے۔۱۸۷۳ء کی ایک یادداشت حسب ذیل ہے۔بقیہ حاشیہ :۔علم غیب اس کا جھوٹا نکلا۔اور اگر مکت ہو گئے۔تو مبارک ہو کہ ہمارا اور آپ کا فیصلہ ہو گیا۔شاید اس جگہ کوئی یہ سوال کرے۔جو ایسے ارواح بھی ہو سکتے ہیں جن کو خدا اپنے علم قدیم سے جانتا ہے جو کبھی مت نہیں ہوں گے۔سو اول تو یہ خیال آریہ سماج کے اصول کے خلاف ہے کیونکہ بموجب وید کے مکتی کا زمانہ کوئی خاص میعاد مقرر نہیں رکھتا جس کے بعد باقی ماندہ روحوں کے کبھی مکتی نہ ہو اور علاوہ اس کے شان ایزدی کے یہ بات ہرگز لائق نہیں جو قلندر کی طرح اس کے ہاتھ میں صرف بندر اور ریچھے رہ جائیں اور ہمیشہ کے واسطے صرف کتوں بلوں سے جہان آباد ہو اور نہ یہ لائق ہے جو مکت ہونے کو خواہ مخواہ بخوف ختم ہونے اپنی جائیداد کے مکت ہونے سے روک دے بس یہ پہلا ثبوت ہے۔(۲)۔دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ارواح میں ہرگز بے انت ہونے کے لچھن نہیں پائے جاتے کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ جس کو بے انت مانا گیا ہے اس کو سرب بیا پک اور محیط مطلق بھی ماننا چاہیئے کیونکہ بے انت ہونا اور سرب بیا پک ہونا لازم وملزوم ہے کوئی چیز سرب بیا پک نہیں ہوسکتی جب تک بے انت نہ ہو۔اور کوئی چیز بے انت نہیں ہو سکتی جب تک سرب بیا پک نہ ہو۔جب کوئی چیز بعض جگہ پائی جائے اور بعض جگہ نہ پائی جائے۔تو وہ چیز نہ بے انت ہے۔اور نہ سرب بیا پک ہے اسی واسطے یہ دونوں نام خاصہ پروردگار کا ہے اور بے انت ہونا ہے اور سرب بیا پک ہونا اُسی