حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 386
حیات احمد ۳۸۶ جلد اول حصہ سوم اس عہد کے کلام کی جو یادداشتیں ملتی ہیں۔ان سے ایک یہ امر بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اشعار ناقص چھوڑ دیئے گئے ہیں۔کسی جگہ پہلا مصرعہ موزوں ہو گیا ہے۔مگر دوسرا مصرعہ رہ گیا ہے۔اور کہیں دوسرا مصرعہ لکھا ہے پہلا نہیں ہے اس سے آپ کی اس عادت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ جذبات کی موج جب جوش میں آتی اور اس حالت میں جو نکل جاتا اسے لکھ دیتے۔اور پھر کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ شاعروں کی طرح گھنٹوں مصرعہ کے لئے فکر کرتے رہیں اور جب تک وہ تیار نہ ہو وے قرار نہ آوے۔آپ اس کے بعد اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔کیا لکھ دیا ہے؟ کبھی تخلص کا استعمال کر لیتے تھے۔اور کبھی نہیں۔ان ایام میں آپ فرسخ تخلص کرتے تھے۔قادیان میں مناظرات انہیں ایام میں آپ اپنے ملنے جلنے والے غیر مذہب کے لوگوں سے (خصوصیت سے لالہ شرمپت رائے اور ملا وامل صاحب ) مذہبی بات چیت برنگ مناظرہ بھی کرتے رہتے تھے۔اور ان کے عقائد اور اصولوں کا اسلام کے عقائد اور اصولوں سے مقابلہ کرتے رہتے تھے۔اور کبھی کبھی ان دوستانہ تبادلہ خیالات کو نظم کر دیا کرتے تھے۔دیوان فرخ میں ” مناظرہ با ہندو اسی قسم کی دوستانہ محفلوں کی ایک شان اور جھلک ہے۔یہ باتیں پبلک میں نہیں ہوتی تھیں بلکہ ایک چوبارہ کے اندر جہاں آپ عموماً رہا کرتے تھے اور صرف دو تین آدمی ہوا کرتے تھے۔اس تبادلہ خیالات میں محبت و ہمدردی اور احقاق حق اور ابطال باطل کی شان جلوہ گر ہوتی تھی۔اس قسم کی گفتگو ؤں کا نتیجہ اگر چہ اُن دونوں صاحبان میں سے کسی کے مسلمان ہونے کی صورت میں تو نہیں نکلا لیکن اس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے قدیم عقائد میں آزاد خیال ہو کر آریہ سماج سے متعلق ہو گئے۔اور بعض اوقات تو ان کے متعلق مسلمان ہو جانے کی افواہیں بھی مشہور ہوتی رہیں۔چنانچہ ایک مرتبہ لالہ ملا وامل صاحب کے مسلمان ہو جانے کی خبر مشہور ہو گئی