حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 29
حیات احمد ۲۹ جلد اوّل حصہ اول جاتا اور زمین سراسر بے ایمانی سے بھر جاتی تب بھی یہ آدمی جو فارسی الاصل ہے اس کو آسمان پر سے لے آتا۔اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِهْرَ وَالنَّسَبَ، أَشْكُرْ نِعْمَتِي رَبَّيْتَ خَدِيجَتِی یعنی تمام حمد اور تعریف اس خدا کے لئے جس نے تمہیں فخر دامادی سادات اور فخر علوّ نسب جو دونوں مماثل و مشابہ ہیں عطا فرمایا۔یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطا کی۔اور نیز بنی فاطمہ اُمہات میں سے پیدا کر کے تمہاری نسب کو عزت بخشی اور میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔یعنی بنی اسحاق کی وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی۔اور دوسری بنی فاطمہ کی عزت اس کے ساتھ ملحق ہوئی۔اور سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز کی بیوی کی طرف اشارہ ہے۔جو سیدہ سندی سادات دہلی میں سے ہیں۔میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے۔اسی فاطمی تعلق کی طرف اس کشف میں اشارہ ہے۔جو آج سے چالیس برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا جس میں دیکھا تھا کہ حضرات پنج تن سید الکونین حسنین فاطمۃ الزہراء اور علی رضی اللہ عنہ عین بیداری میں - آئے۔اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں یہ الہام براہین میں درج ہے۔اس میں بطور پیشگی اشارہ یہ بتلایا گیا ہے کہ وہ تمہاری شادی جو سادات میں مقدر ہے ضروری طور پر ہونے والی ہے۔اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولا دکو خدیجہ کے نام سے یاد کیا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک بڑے خاندان کی ماں ہو جائے گی۔اس جگہ یہ عجیب لطیفہ ہے کہ خدا نے ابتدائے سلسلہ سادات میں سادات کی ماں ایک فارسی عورت مقرر کی جس کا نام شہر بانو تھا۔اور دوسری مرتبہ ایک فارسی خاندان کی بنیاد ڈالنے کے لئے ایک سیدہ عورت مقرر کی جس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔گویا فارسیوں کے ساتھ یہ عوض معاوضہ کیا کہ پہلے ایک بیوی فارسی الاصل سید کے گھر میں آئی۔اور پھر آخری زمانہ میں ایک بیوی سیدہ فارسی مرد کے ساتھ بیاہی گئی۔اور عجیب تریہ کہ دونوں کے نام بھی باہم ملتے ہیں۔اور جس طرح سادات کا خاندان پھیلانے کے لئے وعدہ الہی تھا۔اس جگہ بھی براہین احمدیہ کے الہام میں اس خاندان کے پھیلانے کا وعدہ ہے اور وہ یہ ہے۔سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى زَادَ مَجْدَكَ يَنْقَطِعُ ابَاءُ كَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلك منه