حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 378 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 378

حیات احمد جلد اول حصہ سوم نقل اس کی موجود ہے۔مناسب ہو گا کہ پنڈت صاحب فی الفور اس مضمون مبارک کو سفیر ہند یا برادر ہند یا آریہ در پن میں چھپوا دیں۔پس پنڈت صاحب پر لازم ہے کہ ہماری ہر ایک دلیل کا نمبر وار جواب دیں۔اور ہر ایک دلیل وہی لکھیں کہ جس کا ماخذ اور اصل کوئی شہرتی ہو۔اور اس شرقی کو بجنسہ بحوالہ پستہ و نشان وید کے کہ کس وید میں اور کہاں درج ہے ارقام فرماویں۔اور بمقابلہ ہر ایک آیت کے جو ہم نے بتائید اثبات کسی مطلب کے لکھی ہوشرتی تحریر کریں۔اور اگر شرتی مفقود ہو تو یہ لکھ دیں کہ اس امر میں وید کی شہرتی ندارد ہے۔اور اس بات کا لحاظ رکھیں کہ کوئی نمبر ہماری دلیل کا جواب دینے سے رہ نہ جاوے۔66 یہ نوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مباحثہ کی روئیداد اور آئندہ اس کی تکمیل کے لئے لکھا تھا۔اور جب کوئی جواب پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کی طرف سے نہ آیا۔تو آپ نے اس مضمون کو شائع کر دیا۔اور اس مقابلہ میں نہ صرف پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کو رکھا۔بلکہ حسب ذیل علماء آریہ سماج کو بھی چیلنج دیا۔(۱) سوامی دیانند صاحب (۲) پنڈت کھڑک سنگھ صاحب (۳) باوا نرائن سنگھ صاحب (۴) منشی جیون داس صاحب (۵) جناب منشی کنہیا لال صاحب (۶) جناب منشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر آریہ در پن (۷) جناب با بوساردا پرشاد صاحب (۸) جناب منشی شرمیت صاحب سیکرٹری آریہ سماج قادیان۔اس چیلنج کے ساتھ پانسو روپیہ کا انعام بھی تھا۔مگر کسی صاحب کو حوصلہ نہ ہوا کہ مقابلہ میں آتا۔اصل مضمون تو میں پرانی تحریروں کے سلسلہ میں شائع کر چکا ہوں لیکن جو اعلان آپ نے بطور چیلنج کیا تھا وہ یہ ہے۔