حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 374
حیات احمد ۳۷۴ جلد اول حصہ سوم کے زمانہ قیام سیالکوٹ اور اس کے بعد زمانہ قیام قادیان میں آپ سے ملاقات کی اور اپنے ذاتی تجربہ اور علم کی بناء پر جو رائے قائم کی تھی۔اسے انہوں نے بلا خوف لومۃ لائم آپ کی وفات کے بعد اپنے اخبار زمیندار میں شائع کیا۔چنانچہ آپ کے قیام سیالکوٹ کے متعلق انہوں نے لکھا کہ۔”مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۲ ۲۴ سال کی ہوگی۔اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور منتفی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔عوام سے کم ملتے تھے۔“ اور جب آپ سیالکوٹ سے ملازمت چھوڑ کر قادیان تشریف لے آئے تو اس زمانہ میں بھی مولوی سراج الدین صاحب ایک مرتبہ قادیان میں آئے۔جہاں تک میری تحقیقات مساعدت کرتی ہے۔مرزا موحد صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔اور یہ ۱۸۷۷ء کا واقعہ ہے۔ان ایام کی حالت کے متعلق مولوی سراج الدین صاحب لکھتے ہیں۔۱۸۷۷ ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔ان دنوں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی کم گفتگو کرتے تھے۔“ یہ اس شخص کی رائے ہے جو آپ کے دعاوی پر ایمان نہیں لایا۔مگران کے متعلق بھی وہ کہتا ہے کہ ”آپ کے دعاوی خواہ دماغی استغراق کا نتیجہ ہوں۔مگر بناوٹ اور افترا سے بری تھے۔“ آپ کو مفتری وہ یقین نہ کرتے تھے۔ایسے شخص کا اپنی ذاتی واقفیت اور چشم دید حالات کی بناء پر مندرجہ بالا شہادت دینا معمولی بات نہیں ہے۔خود مولوی سراج الدین صاحب سرسید کے اتباع میں تھے۔انہوں نے خود بھی حضرت مسیح موعود کے دعاوی کے متعلق ایک مبسوط مضمون لکھا تھا۔اس کا جواب مکرم میر حامد شاہ صاحب نے الجواب کے نام سے دیا تھا۔سیالکوٹ کی پاکیزہ زندگی کے متعلق یہی ایک شہادت نہیں۔بلکہ ان مخلصین اور اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُون کی عملی شہادت بھی ہے۔جنہوں نے