حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 370 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 370

حیات احمد جلد اول حصہ سوم سیالکوٹ کی زندگی کے متعلق کچھ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوئی زندگی کے متعلق میں نے پہلی جلد میں کچھ لکھا تھا۔لیکن اس جلد کی اشاعت تک بعض اور حالات بھی معلوم ہو چکے ہیں۔اور چونکہ یہ تمام حالات اور واقعات زمانہ براہین تک کے عہد میں آتے ہیں۔اس لئے اُن کی تکمیل کے لئے میں ان واقعات کو درج کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔گو ترتیب اور اسلوب کے لحاظ سے شاید یہی مناسب ہوتا کہ اسی جگہ ان کا اندراج ہوتا۔لیکن راقم کی پوزیشن نازک اور اس کام کی مشکلات عیاں ہیں۔جب اور جہاں مجھے حالات میسر آتے ہیں میں ان کو بلا لحاظ ترتیب درج کر دیتا ہوں۔اور سچ تو یہ ہے کہ سوانح عمری گویا بطور ایک مواد کے ہے۔آنے والے اہلِ قلم اپنے اپنے رنگ میں اس سے اقتباس کریں گے۔اور اپنے اپنے مذاق کے موافق ان واقعات کو ترتیب دے لیں گے۔سیالکوٹ کی زندگی کے واقعات کے متعلق پہلے بھی جناب مولوی میر حسن صاحب قبلہ نے ہی مدد فرمائی تھی۔اور یہ واقعات بھی اُن کی ہی مہربانی کا نتیجہ ہیں۔حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب سے بھی میں نے ان واقعات اور حالات کو نوٹ کیا تھا۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے۔اور راقم کو بھی حضرت کی معیت کی عزت حاصل تھی۔میں نے ایک مکان کو بھی دیکھا تھا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اقامت پذیر تھے۔الغرض ایام اقامت سیالکوٹ کے واقعات کا یہ تتمہ جناب مولوی میرحسن صاحب نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو لکھ کر بھیجا اور میں اُن سے لیتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میں جو اسی عاصی پُر معاصی کے غریب خانہ کے بہت قریب ہے۔عمرا نامی کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے۔کچہری سے جب تشریف لاتے تھے۔تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔بیٹھ کر کھڑے ہو کر ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے۔اور زار زار رویا کرتے تھے۔ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔حسب عادت زمانہ