حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 28 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 28

حیات احمد ۲۸ جلد اوّل حصہ اوّل اس کے متعلق فرمایا۔غرض تمام زمین کا ظلم سے بھرنا اور ایمان کا زمین پر سے اٹھ جانا اس قسم کی مصیبتوں کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایک ہی زمانہ ہے۔جس کو مسیح کا زمانہ یا مہدی کا زمانہ کہتے ہیں۔اور احادیث نے اس زمانہ کو تین پیرایوں میں بیان کیا ہے۔رجل فارسی کا زمانہ۔مہدی کا زمانہ مسیح کا زمانہ۔اور اکثر لوگوں نے قلت تدبر سے ان تین ناموں کی وجہ سے تین علیحدہ علیحدہ شخص سمجھ لئے ہیں اور تین قومیں ان کے لئے مقرر کی ہیں۔ایک فارسیوں کی قوم۔دوسری بنی اسرائیل کی قوم۔تیسری بنی فاطمہ کی قوم مگر یہ تمام غلطیاں ہیں۔حقیقت میں یہ تینوں ایک ہی شخص ہے جو تھوڑے تھوڑے تعلق کی وجہ سے کسی قوم کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔مثلاً ایک حدیث سے جو کنز العمال میں موجود ہے۔سمجھا جاتا ہے کہ اہل فارس یعنی بنی فارس بنی اسحاق میں سے ہیں۔پس اس طرح پر وہ آنے والا مسیح اسرائیلی ہوا اور بنی فاطمہ کے ساتھ اُمہاتی تعلق رکھنے کی وجہ سے جیسا کہ مجھے حاصل ہے فاطمی بھی ہوا۔پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا اور نصف فاطمی ہوا جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔ہاں میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔لیکن یہ الہام اس زمانہ کا ہے کہ جب اس دعوی کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔یعنی آج سے میں برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے۔اور وہ یہ ہے۔خُذُوا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا أَبْنَاءَ الْفَارِسِ یعنی تو حید کو پکڑو تو حید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔اور پھر دوسری جگہ یہ الہام ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَكَرَ اللَّهُ سَعْيَهُ - یعنی جو لوگ خدا کی راہ سے روکتے تھے۔ایک شخص فارسی اصل نے ان کا ردلکھا۔خدا نے اس کی کوشش کا شکریہ کیا۔ایسا ہی ایک اور جگہ براہین احمدیہ میں یہ لکھا ہے۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالكُرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ۔یعنی اگر ایمان ثریا پر اٹھایا