حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 369 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 369

حیات احمد ۳۶۹ جلد اول حصہ سوم بٹالہ میں بہت بڑا مرکز اور مشن قائم ہو چکا تھا اور بٹالہ کے مسلمانوں کو انہوں نے تنگ کرنا بھی شروع کر دیا تھا بلکہ ایک مولوی قدرت اللہ صاحب نام کو عیسائی بھی بنالیا تھا۔مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ مولوی قدرت اللہ صاحب آخر پر مسلمان ہو گیا۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل اور مباحثات کا نتیجہ تھا۔بٹالہ کے مباحثات میں اس وقت حضرت مسیح موعود براہِ راست حصہ نہیں لیتے تھے۔بلکہ ان مباحثات کے لئے منشی نبی بخش صاحب کو آپ نے تیار کیا تھا۔منشی نبی بخش صاحب بٹالہ کے رہنے والے پٹواری تھے۔اور عیسائیوں کے ساتھ مباحثات کے سلسلہ ہی میں اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سلسلہ ملاقات شروع ہوا۔وہ یہاں آتے اور اُن کے اعتراضات وغیرہ پیش کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے اعتراضوں پر مفصل بحث کرتے اور ان کے جوابات ان کو سمجھاتے۔اور اسی طرح عیسائی مذہب پر جو اعتراضات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی ان کو بتاتے اور وہ واپس جا کر اسی طریق پر بحث کرتے اور غالب آتے۔منشی نبی بخش صاحب پٹواری کو ہمارے قادیان کے احباب اکثر جانتے ہیں کیونکہ وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں قادیان میں خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے مختار اور اُن کی طرف سے سر براہ نمبر دار بھی رہے ہیں۔انہی ایام میں خود خان بہادر مرز ا سلطان احمد کو بھی عیسائیوں سے قلمی جنگ کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔چنانچہ مرزا صاحب بھی اخبار نور افشاں کے جواب میں لمبے لمبے مضامین بنگلور کے اخبار منشور محمدی میں لکھا کرتے تھے۔یہ شوق ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع میں پیدا ہوا تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قلمی جنگ کا بھی اعلان ہو چکا تھا اور منشور محمدی کے صفحات آپ کے مضامین کے رہین منت ہیں۔ان مضامین کی نوعیت اور طرز استدلال پر اس وقت بحث نہیں کی جا سکتی۔اور نہ ضرورت ہے اس لئے کہ یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود کے علم کلام کے ضمن میں ہو گا۔یہاں صرف واقعات اور حالات کا ایک سلسلہ بیان کرنا ہے۔