حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 365
حیات احمد ۳۶۵ جلد اول حصہ سوم تحصیلدار سے اقرار ہو گیا ہے وہ بھی تشریف لاویں گے۔ملا زمان کو حسب ذیل روپیہ لے کر دے دیں۔پیراں دتا عار (دوروپے)۔جھنڈ و باغبان سے ( تین روپے)۔مرزا غلام قادر اس خط سے ظاہر ہے کہ آپ ایک صافہ سر کے لئے اس امر کے منتظر رہتے تھے کہ مرزا غلام قادر صاحب لے کر بھیج دیں۔اور ملازمین کے اخراجات بھی آپ کے پاس نہ رہتے تھے بلکہ گھر سے لے کر خود ادا کر دیا کرتے تھے۔یہ حالت آپ کی کسی افسوس کا موجب نہیں۔بلکہ بعد میں جا کر یہ ایک عظیم الشان نشان بن گئی کہ کس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کو اٹھایا۔اور اُسے برومند کیا۔جس کے سامنے کسی قسم کے اسباب اور سامان دنیوی ترقی کے نہ تھے۔ایک دنیا کو اس کی طرف متوجہ کر دیا۔اور وہ جو بعض اوقات شوربے کے چند گھونٹ پی کر سو رہتا۔آج اس کے طفیل سے ہزاروں انسان کھاتے ہیں۔، عهد عسرت میں استغناء کی شان نمایاں تھی حضرت میرزا صاحب کا یہ عہد (جو قادیانی زندگی کا دوسرا دور تھا۔یعنی جب آپ سیالکوٹ سے واپس آچکے تھے ) ایک عسرت کا عہد تھا۔یہ عسرت اس لئے نہ تھی کہ خدا نخواستہ گھر میں کسی قسم کی تنگی یا افلاس تھا۔خاندان خدا کے فضل سے معزز اور دوسروں کے ساتھ احسان کرنے میں ممتاز تھا۔لیکن آپ کی عسرت کے اسباب اور وجوہات کچھ اور تھے۔سب سے پہلی بات تو یہ تھی کہ آپ اپنی ضروریات سے ہی کسی کو واقف کرنا نہیں چاہتے تھے اور کبھی کسی قسم کی خواہش کا اظہار اپنے بزرگوں سے نہیں کرتے تھے۔آمدنی کے جس قدر وسائل تھے وہ اُن کے ہاتھ میں تھے اور آپ کے اہل وعیال کے اخراجات تمام و کمال خاندانی روایت کے موافق بڑے میرزا صاحب کرتے تھے۔آپ کو ان سے تعلق نہ ہوتا۔اس لئے یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ آپ کی ضروریات کچھ نہیں۔کبھی کچھ آپ کو دے دیا۔آپ کے اخراجات کی مد میں اخبارات کی خرید اور ڈاک کے اخراجات کے علاوہ داد و دہش بھی ہوتی تھی۔کوئی سائل آجاتا یا کسی محتاج کو پاتے تو اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے