حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 26 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 26

حیات احمد ۲۶ جلد اوّل حصہ اول ایک شخص ہے یعنی یہ عاجز بطور اعزاز کے حضرت باری تعالیٰ کی طرف سے ہے۔جیسا کہ بعض حدیثوں میں بجائے اس حدیث کے کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ - رِجَالٌ مِنْ فَارِس لکھا ہے۔وہ بھی درحقیقت اسی اعزاز کے ارادہ سے ہے۔ورنہ ہر جگہ در حقیقت رجُلٌ ہی مراد ہے۔اس تمام تحقیق سے معلوم ہوا کہ حارث کی نسبت بھی عمدہ علامت احادیث میں ہے کہ ایمانی نمونہ لے کر دنیا میں آئے گا اور اپنی قوت ایمانی کی شاخیں اور ان کے پھل ظاہر کر کے ضعیفوں کو تقویت بخشے گا اور کمزوروں کو سنبھال لے گا۔اور اپنی صداقت کی شعاعوں سے شہر سیرت مخالفوں کو خیرہ کر دے گا۔لیکن مومنوں کے لئے آنکھ کی روشنی اور کلیجے کی ٹھنڈک کی طرح سکیت اور اطمینان اور تسلی کا موجب ہوگا۔اور ایمانی معارف کا معلم بن کر ایمانی روشنی کو قوم میں پھیلائے گا۔اور ہم رسالہ فتح اسلام میں ظاہر کر آئے ہیں کہ در حقیقت مسیح بھی ایک ایمانی معارف کا سکھلانے والا اور ایمانی معلم تھا اور یہ بھی ظاہر کر آئے ہیں کہ میسیج بھی ظاہری لڑائی کے لئے نہیں آئے گا۔بلکہ بخاری نے يَضَعُ الْحَرْبَ اُس کی علامت لکھی ہے۔اور یہ کہ اُس کا قتل کرنا اپنے دم کی ہوا سے ہوگا۔نہ تلوار سے یعنی موجہ باتوں سے روحانی طور پر قتل کرے گا۔سو مسیح اور حارث کا ان دونوں علامتوں میں شریک ہونا اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ حارث اور مسیح موعود دراصل ایک ہی ہیں۔اور یہ حارث موعود کی پہلی علامت ہے جو ہم نے لکھی ہے۔یعنی یہ کہ وہ نہ سیف کے ساتھ نہ سنان کے ساتھ بلکہ اپنی قوت ایمان کے ساتھ اور اپنے انوار عرفان کے ساتھ اپنی قوم کو تقویت دے گا۔جیسے قریش نے یعنی صدیق و فاروق و حیدر کرار اور دیگر مومنین مکہ نے انہیں صفات استقامت کے ساتھ دینِ احمدی کے مکہ معظمہ میں قدم جما (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۷ تا ۱۵۶ حاشیه) پھر اپنی تصانیف میں مختلف مقامات پر اس مضمون کو دہرایا ہے۔ضرورت نہیں کہ میں مکررات کو یہاں دیئے تھے۔درج کروں۔رض۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذریت میں سے بھی ایک موعود ہے اس لئے بھی ابناء فرمایا۔(ایڈیٹر )