حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 344
حیات احمد ۳۴۴ جلد اول حصہ سوم اعتراضات پنڈت کھڑک سنگھ صاحب نے کئے اور ان کا لہجہ ایسا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کو رنج ہوا اور اُن کے کلام میں تیزی پیدا ہو گئی۔اور یہ سمجھا گیا کہ بد مزگی پیدا نہ ہو جائے۔اس لئے بشمبر داس اُن کو لے کر چلے آئے۔پھر حضرت صاحب نے ایک تحریری پر چہ بھی بھیجا تھا۔جس کے جواب کے متعلق معلوم نہیں پنڈت کھڑک سنگھ نے کیا کیا۔لالہ شرمیت رائے صاحب نے بھائی کشن سنگھ صاحب کے بیان کی تائید اس طرح پر کی کہ گفتگو ہورہی تھی۔کوئی خاص مسئلہ زیر بحث نہ تھا۔مختلف سوال و جواب ہوتے تھے۔پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کے ایک اعتراض کو حضرت مرزا صاحب نے دل آزار سمجھا۔اور اس کے جواب میں سختی کی۔لوگوں نے سمجھا کہ بات بڑھ نہ جائے۔پنڈت کھڑک سنگھ تو چلا جاوے گا۔اور ہمارے تعلقات میں فرق آئے گا۔اس لئے بحث کو بند کر دیا اور حضرت مرزا صاحب وہاں سے تشریف لے آئے۔اور پنڈت کھڑک سنگھ بھی وہاں سے چلے گئے۔اس کے بعد ایک دو تحریریں ہوئیں۔مگر پنڈت کھڑک سنگھ کو ہم لوگوں نے بھیج دینا مناسب سمجھا۔یہ تین روایتیں ہیں۔ان ہر سہ روایتوں میں ایک امر مشترک ہے کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب نے کوئی ایسی بات ضرور کہی ہے جس سے حضرت کو طبعی طور پر رنج ہوا۔اور آپ کو اپنے کلام میں نرمی کا طریق چھوڑنا پڑا۔اس بات کے متعلق بھائی کشن سنگھ صاحب کا بیان صاف ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اعتراض پنڈت نے کئے اور اُن کا لہجہ اچھا نہیں تھا۔یہی حقیقت اور امر واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ آپ میں غیرت دینی بے حد تھی۔خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آپ کوئی کلمہ بے ادبی کا سن کر بے تاب ہو جاتے تھے۔اور آپ برداشت ہی نہ کر سکتے تھے۔اس کے بہت سے واقعات آپ کی زندگی میں پائے جاتے ہیں۔آپ نے اپنی بچی (جناب مرزا غلام حیدر صاحب مرحوم کی اہلیہ ) بی بی صاحب جان کے