حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 343
حیات احمد ۳۴۳ جلد اول حصہ سوم اور ذرائع میسر ہیں میرے مقابلہ میں نہ کچھ کر سکے گا اور نہ زیادہ دیر ٹھہر سکے گا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب برخود غلط کے مصداق تھے۔غرض وہ قادیان میں آئے اور بڑی دھوم دھام سے جو گاؤں کے حسب حال ہو سکتی تھی اُن کا خیر مقدم ہندو حضرات نے کیا۔پنڈت کھڑک سنگھ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مباحثہ کی طرح ڈالی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر طالب حق کی تسلی اور اطمینان کے لئے تیار رہتے تھے اور ہر معاند اسلام کے اعتراضات کے جوابات دینے کے لئے آمادہ۔چنانچہ پنڈت کھڑک سنگھ نے آ کر جب مباحثہ کرنا چاہا۔آپ نے اس میں ذرا بھی تامل نہ فرمایا۔مباحثہ کے متعلق میرے پاس دو روایتیں ہیں۔ایک بھائی کشن سنگھ صاحب کی دوسری لالہ ملا وامل صاحب کی۔لالہ شرمیت رائے نے بھی اس کے متعلق بیان کیا تھا اور وہ بھائی کشن سنگھ صاحب کا مرید تھا۔تاہم میں ہر دو روایتیں یہاں دے دوں گا۔بھائی کشن سنگھ صاحب کی روایت کی تائید میں تحریری ثبوت یہی ہے۔مباحثہ کے لئے بڑہن شاہ کا تکیہ مقرر ہوا تھا۔جو سرکاری پرائمری سکول کے پاس ہے۔حسب روایت لالہ ملا وامل صاحب بحث کا موضوع تناسخ تھا۔لالہ ملا وامل صاحب بیان کرتے ہیں کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب نے اعتراض کیا کہ ایک کتا جس کو کیڑے پڑے ہوئے ہوں اور وہ اس سے تکلیف اٹھا رہا ہو اس کا کیا قصور ہے۔اگر یہ گرموں کا پھل نہیں تو کیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب کے جواب کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کیا جواب دیا مگر کچھ کلام میں تیزی پیدا ہو گئی اور لالہ بشمبر داس حضرت صاحب کو وہاں سے لے آئے اور مباحثہ اس پر ختم ہو گیا۔برخلاف اس کے بھائی کشن سنگھ صاحب کی روایت یہ ہے کہ مباحثہ وید اور قرآن کریم کی تعلیم پر تھا۔اور حضرت مرزا صاحب نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ قرآن کریم کی تعلیم کے کامل اور اعلیٰ ہونے کا ثبوت میں قرآن مجید سے دوں گا۔اور تم وید کی تعلیم کے اعلیٰ اور کامل تر ہونے کا ثبوت اور دلائل وید سے دو۔ضمنا تناسخ پر بھی بحث تھی۔اس پر گفتگو ہو رہی تھی کہ اثنائے تقریر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے متعلق بعض