حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 330 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 330

حیات احمد ۳۳۰ جلد اول حصہ سوم ظہوری گر آگہ شدے زاں صفا نشست پس زانوئے اختفاء اگر ظہوری شاعر اس صفائی سے واقف ہو جاتا تو وہ منہ چھپا کر بیٹھ جاتا چنان در سخن صفوت و بندوبست که عقد گہر را دهد صد شکست آپ کی باتوں میں ایسی چمک اور ایسی ترتیب ہے کہ وہ موتیوں کے ہار کو بھی مات کرتی ہیں تو گفتی سریری است صفوت اساس مرقع ز یاقوت و مرجان و ماس گویا وہ ایک ایسا چیدہ اور منتخب تخت ہے جو یا قوت ، مرجان اور الماس سے جڑا ہوا ہے زہے نحو آن بود نحو سداد ہمہ منطقم صرف آن نحو باد واہ وا اس کی نحو کیسی اعلیٰ نحو ہے کہ میری ساری گویائی اس نحو پر قربان ہے۔سخن را ازاں گونه آراسته نے آید از پیر و نوخاسته اس میں کلام کو اس طرح آراستہ کیا گیا ہے کہ اور کوئی نہیں کر سکتا خواہ بوڑھا ہو یا جوان سخن سے کو نمودست در عدن به معنی رسانید ، لفظ سخن کلام سے گویا ایک در عدن ظاہر ہو گیا جس نے الفاظ کو معانی تک پہنچا دیا سخن نام دریافت زاں نامہ اس خط سے سخن نے نام پایا۔واہ وا اور اس تحریر کی پختگی کے کیا کہنے۔سخن آں چناں باید و استوار چه حاصل سخن گفتن نابکار بات ایسی ہی عمدہ اور پختہ ہونی چاہیے۔بے سود باتیں کرنے کا کیا فائدہ! از گفتن این چنیں کہ لب ها نه جنباند از آفرین خموشی پختگی ہائے آں خامہ رہے ایسی (فضول) باتوں سے تو چپ رہنا اچھا ہے جو لوگوں کے منہ سے تعریف حاصل نہیں کر سکتیں نوٹ لے ، ان ہر دو شعروں میں کاغذ کے بوسیدہ ہو کر پھٹ جانے کے سبب پہلے دو دو لفظ معلوم نہ تھے منشی ظفر احمد صاحب نے نقل کے وقت سیاق و سباق کے مطابق یہ الفاظ لکھ دیئے ہیں۔