حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 329 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 329

حیات احمد ۳۲۹ جلد اول حصہ سوم رسول خدا پرتو از نور اوست ہمہ خیر ما زیر مقدور اوست رسول اللہ اس کے نور کا پر تو ہیں اور ہماری ساری بھلائیاں انہیں کے ساتھ وابستہ ہیں ہماں سرور و سید و نور جان محمد کزو بست نقش جهان وہی سردار، سید اور جان کا نور محمد ہے جس کی وجہ سے جہان کی تخلیق ہوئی بشر کے بدی از ملک نیک تر نہ بودے اگر چون محمد بشر انسان فرشتے سے کیوں کر بڑھ جاتا اگر محمد سا بشر پیدا نہ ہوتا دلش بست نورانی و سرمدی بتابد درو فرة اس کا دل نورانی اور ازلی ہے اور اس میں خدا کی عظمت اور شان چمکتی ایزدی ہے کسے کش بود مصطفی رہنما سر بخت او باشد اندر سماء وہ شخص جس کا رہنما مصطفیٰ ہو اس کا نصیبہ بلندی میں آسمان تک پہنچتا ہے پر از یاد او هست جان و و دلم بخواب اندر اندیشہ ہم نکسلم میرے جان و دل اس کی یاد سے معمور ہیں خواب میں بھی مجھے کوئی دوسرا خیال نہیں آتا پس از وے، سلامم بتو، اے شفیق کرم گستر و همره و هم طریق اس کے بعد اے مہربان اور شفیق اور ہم خیال دوست میں تجھے سلام کہتا ہوں فرستاده نامة ہم ہمچو خور که یاد من خسته کردی نے دُور کیونکہ تو نے اس عاجز کو اتنی دور سے یاد کیا اور ایک خط جو ٹور کی طرح حسین ہے مجھے بھیجا چناں نظم و نثرش که مانند آں ندیدم بعمر خود اندر جہاں اس کی نظم اور نثر ایسی تھی کہ اس جیسی میں نے کبھی دنیا میں نہیں دیکھی صفاہا چنان اندر آن بیش بیش که حاسد به بیند درآں روئے خویش اس میں ایسی اعلیٰ درجہ کی صفائی ہے کہ دشمن اس میں اپنا منہ دیکھ سکتا ہے