حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 321
حیات احمد ۳۲۱ جلد اول حصہ سوم ہی پھینک دیتا تھا اور آپ اس کی آہٹ سے اٹھ کر دروازہ کھول دیتے۔کبھی ایسا بھی اتفاق ہوتا تھا کہ میں سبق پڑھا کرتا اور آپ کھانا کھاتے جاتے اور پڑھاتے بھی جاتے تھے۔اسی حالت میں بعض اوقات میری کتاب میں کوئی غلطی ہوتی تو آپ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے اور مستند کتاب نکال کر لاتے اور اس غلطی کی اصلاح یا مشکوک امر کو درست فرماتے۔میں ہر چند عرض کرتا کہ آپ تکلیف نہ اٹھائیں۔کھانا کھا لیں۔بعد میں دیکھا جائے گا۔مگر آپ میری اس درخواست کو منظور نہ فرماتے۔اور کہہ دیتے کہ تمہارا ہرج ہوگا یہ ٹھیک نہیں۔وہ اپنے آرام کی پروا نہ کرتے اور کتاب نکال کر مجھے درست کرا دیتے۔طلب اکبر میں مالیخولیا کی بحث بھائی کشن سنگھ صاحب کہتے ہیں کہ میں طب اکبر پڑھ رہا تھا اور اس میں مالیخولیا کی بحث میرے سبق میں آئی۔طب اکبر میں اس مرض کی علامات اسباب وغیرہ پر مفصل بحث ہے۔اس میں خلوت نشینی کو بھی ایک حد تک اس میں داخل کر دیا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا۔طبیبوں نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔دیکھو جو لوگ خلوت نشین ہوں ان کو بھی مجنون لکھ دیتے ہیں۔بھائی کشن سنگھ صاحب کہتے تھے میں نے آپ سے یہ سن کر ہنستے ہوئے کہا کہ جیسے آپ کو بھی تو کہتے ہیں، آپ ہنس پڑے اور مجھے کسی قسم کا زجر نہ فرمایا۔گو مجھے کہہ دینے کے بعد افسوس ہوا اور شرم محسوس ہوئی کہ میں نے غلطی کی لیکن میں نے کوئی عذر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔کیونکہ میں جانتا تھا۔مرزا صاحب اس قسم کی بات دل میں نہیں رکھتے اور کسی سے بدلہ لینا نہیں چاہتے۔بظاہر یہ واقعہ ایک معمولی واقعہ ہے۔سادگی اور بے تکلفی کی شان اس سے نمایاں ہے۔مگر میں اس کو معمولی واقعہ نہیں سمجھتا اور نہ بھائی کشن سنگھ نے اس کو معمولی سمجھ کر بیان کیا تھا۔جس وقت اس نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے اور اس نے کہا کہ اگر میں اس قسم کے الفاظ مرزا نظام الدین صاحب کے سامنے کہہ دیتا تو خدا جانے میرا کیا حال ہوتا۔بیان کی