حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 320
حیات احمد ۳۲۰ بھائی کشن سنگھ کے طبی سبق جلد اول حصہ سوم بھائی کشن سنگھ صاحب (جن کا ذکر اس سے پہلے بھی آچکا ہے ) نے آپ سے طب پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔آپ نے اس کی درخواست کو باوجود اپنی مصروفیت کے رد نہ فرمایا۔اور بھائی کشن سنگھ صاحب نے طبی سبق شروع کر دیئے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی وجاہت اور رُعب ایسا تھا کہ کسی شخص کو ان کے حضور جانے کی بھی جرات نہ ہوتی تھی چہ جائیکہ ان سے اس قسم کی درخواست کی جاوے۔اگر چہ مرزا صاحب مرحوم مخلوق کی نفع رسانی کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔غرض بھائی کشن سنگھ صاحب نے آپ سے درخواست کی اور حضرت نے پڑھانا منظور فرما لیا۔بھائی کشن سنگھ صاحب جب جاتے تو آپ دستک دینے پر فوراً دروازہ کھول کر ان کو بلا لیتے۔بھائی کشن سنگھ صاحب نے اپنی زندگی کے کئی سال میرے ساتھ بھی علمی شغل میں گزارے ہیں۔ان کو یہ شوق تھا۔چنانچہ مثنوی مولانا روم۔دیوان حافظ اور قرآن مجید کا ترجمہ انہوں نے مجھ سے پڑھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ان ایام کے متعلق جبکہ وہ طبی سبق پڑھنے جایا کرتے تھے۔بیان کیا کرتے تھے کہ لوگ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم سے جرات کر کے کچھ کہہ نہ سکتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بلا تکلف جو چاہتے کہہ لیتے تھے۔میں نے بھی اسی لئے اُن سے پڑھنا شروع کیا۔مجھے زمانہ طالب علمی (طبی طالب علمی کا زمانہ مراد ہے) میں یہ تجربہ ہوا کہ حضرت مرزا صاحب کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔ان کی خدمت میں جاتے ہوئے ہم کو ذرا بھی جھجھک اور حجاب نہ ہوتا تھا۔ہم بے تکلف جس وقت چاہتے چلے جاتے۔اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ آپ نے اپنی مصروفیت یا آرام کرنے کا عذر کر کے ٹال دیا ہو۔بعض اوقات آپ نے سوتے اٹھ کر دروازہ کھولا ہے۔مگر بُر انہیں منایا کہ تم نے میرے آرام میں آ کر خلل پیدا کیا۔بھائی کشن سنگھ صاحب کہتے تھے کہ چونکہ دروازہ عموماً بند ہوتا تھا۔کبھی کبھی میں اوپر سے کنکر