حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 309 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 309

حیات احمد ۳۰۹ جلد اول حصہ سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ عرض حال الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِين وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْآمِيْنِ مُحَمَّدٍ وَّاله وَأَصْحَابِهِ وَخُلْفَائِهِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِتِيْن - اما بعد میں خدا کے فضل اور رحم اور جائز فخر و مسرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح حیات کے تیسرے نمبر کی اشاعت کی توفیق پارہا ہوں۔مگر ساتھ ہی میں نہیں کہہ سکتا کہ کس قدر ندامت اور تاسف کے جذبات میرے دل و دماغ پر مستولی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر ۲۰ سال سے زیادہ عرصہ گزر رہا ہے اور ہم آپ کے سوانح حیات اور سیرت کو مکمل طور پر پبلک میں پیش نہ کر سکیں۔وہ کامل انسان جو دنیا میں سُلطان القلم کے نام سے آیا ہم اُس کے دامن سے وابستہ ہو کر اس کے کارناموں کو کتابی شکل میں دُنیا کے سامنے پیش کرنے سے ہیں سال تک قاصر رہیں۔اللہ تعالیٰ اس قصور و خطا کو معاف فرما دے۔تعویق اور توقف کے اسباب اور اس کے لئے ذمہ واریوں اور جوابدہیوں کی تفاصیل داستان دردناک اور طویل ہے۔میں ہر احمدی سے درخواست کروں گا کہ وہ سوچے کہ اس نے اس سلسلہ میں اپنے فرض کو کہاں تک ادا کیا ہے میں اپنی بریت کے لئے کوئی عذر پیش نہیں کرنا چاہتا۔اللہ تعالیٰ سے اپنے قصور کی معافی چاہتا ہوں اس کا احسان اس کا رحم اور ستاری میری پردہ پوشی فرمائے۔میں ہر احمدی کو انفرادی طور پر اور تمام جماعت کو مجموعی حیثیت سے اس کا جوابدہ یقین کرتا ہوں اس لئے کہ ایسے عظیم الشان کام قومی سر پرستی اور حوصلہ افزائی کے بغیر بمشکل پورے ہو سکتے ہیں اب تک جو کچھ ہوا یہ شخض خدا کا فضل اور حضرت خلیفہ اسیح کی توجہ کا نتیجہ ہے میں نے پہلا نمبر شائع کرتے ہوئے بھی کہہ دیا تھا کہ اس کی